از قلم : محمد اسجد قاسمی
ڈائریکٹر: دینیات اکیڈمی
سیرتِ طیبہ؛انسانیت کی فلاح و بہبود کا واحد سر چشمہ
زمانوں کی گردش، تہذیبوں کی شکست و ریخت، علوم و فنون کی رونقیں اور تمدنی ترقیوں کی چمک دمک… سب کچھ اپنی جگہ، مگر انسان کا دل آج بھی ایک جھلملاتی ہوئی روشنی کا محتاج ہے۔ وہ روشنی جو اندھیروں کو چیر کر راہوں کو منور کر دے، جو بھٹکے قافلوں کو رخِ منزل دکھا دے، اور جو بکھرے دلوں کو جمع کر کے انسان کو اس کے اصل وجود کی طرف واپس لے آئے۔ یہی وہ روشنی ہے جسے انسانیت ’’سیرتِ محمدی ﷺ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔
سیرتِ مصطفوی ﷺ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کو دیکھ کر سنوار سکتا ہے۔ اس لئے سیرتِ نبوی ﷺ کو محض ایک تاریخی مواد کے طور پر نہیں؛ بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل کے حل کے طور پر بھی پیش کیا جانا چاہئے؛ کیوں کہ حضور ﷺ معلم، مصلح، حاکم، قائد، قاضی، داعی اور مربی کی حیثیت سے جلوہ گر ہیں۔ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں آپ ﷺ کا عملی نمونہ موجود نہ ہو۔ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہیں آ سکتا جس میں سیرتِ طیبہ کی روشنی رہنمائی نہ کر سکے۔ اس لئے نئے اسلوب اور تازہ انداز میں سیرت کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سیرتِ طیبہ کی ہمہ گیریت اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کے احوال کو مد نظر رکھتے ہوئے چند علم دوست احباب کے دلوں میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایسے وقت میں – جب کہ ایک طرف یہود اپنے مکر و فریب کے جال بچھائے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف نصاری امت محمدیہ کے خلاف محاذ آرا ہیں، اور ساتھ ہی کفر و الحاد بھی پوری شدت کے ساتھ خدا کی سر زمین پر ’’اُعْلُ هُبُلْ اور لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ‘‘ کا نعرہ بلند کر رہا ہے، – تو ایک مؤمن کے لئے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ پورے یقین و اذعان کے ساتھ ’’ اللهُ أَعْلٰى وَأَجَلُّ‘‘ اور ’’اللّٰہُ مَوْلٰنا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ‘‘ کی صدا بلند کرے۔ اور وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ کو اپنے لئے باعثِ سکون و اطمینان سمجھے۔
چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کے مقابل کسی خود ساختہ کردار کو آئڈیل اور نمونۂ عمل کے طور پر پیش کیا جائے اور اسلامی نظام کے مقابل کسی فتنہ انگیز و دجالی نظام کو فروغ دیا جائے تو مؤمن کے لیے بس یہی آخری اور واحد سہارا نظر آتا ہے کہ وہ کلامِ خدا کی آیات ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘ اور ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ‘‘ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے اور سیرتِ پاک سے نورِ ہدایت حاصل کرے؛ تاکہ ہر دجالی نظام کے سامنے پختہ ایمان کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
محمد ﷺ صرف ایمان کے پیشوا نہیں بلکہ ہر عمل و فکر میں آپ کی رہنمائی ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جس نے بھی اُن راہنمائیوں کو اپنا نصب العین بنایا وہ کائنات کے اُفق پر تاباں ستارہ بن گیا۔
آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کی گواہی آپ ﷺ کے جانی دشمنوں نے بھی دی ہے۔ قبل از نبوت مکہ کے باشندوں نے آپ ﷺ کو ’’صادق اور امین‘‘ کا لقب عطا کیا۔ حجرِ اسود کو خانہ کعبہ کی دیوار میں نصب کرنے کے وقت پیش آنے والے جھگڑے میں جب رسول اللہ ﷺ فیصل قرار پائے، تو سب کے چہروں پر اطمینان کے آثار نمایاں ہوئے، اور آپ ﷺ کے حکیمانہ فیصلے کی مخالفت کا کوئی ثبوت روایتوں میں نہیں ملتا۔ اسی طرح حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کی دیانت و امانت کی کھلم کھلا گواہی دی، جو آپ ﷺ کے بلند اخلاق اور کامل امانت داری کی ایک روشن مثال ہے۔
یہ تمام واقعات اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے رسول اللہ ﷺ کی حکمتیں جس طرح اُس زمانے میں زندگی کی کامیابی کا ضامن تھیں، وہ آج بھی اسی طرح مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں؛ بس ان سے واقفیت اور اُن پر عمل درآمد کی دیر ہے۔
بہر کیف! ’’جہانِ سیرت‘‘ ایک ادنیٰ سی کوشش ہے، جس کا اولین مقصد اپنی اصلاح اور زندگی کو سیرتِ طیبہ سے منور کرنا ہے؛ نیز قارئین کی ضیافت طبع کے لئے اس مجلہ میں سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف گوشے تحقیق و ادب کے حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔ حضور ﷺ کی خانگی زندگی کا وقار، بچوں کے ساتھ شفقت کا وہ اسلوب جس نے تاریخِ انسانی پر لازوال نقوش چھوڑے، دعوت و حکمت کے آفاقی اصول، تجارت و معاش کے میدان میں دیانت، امانت، اخلاقیات، اور معاشرتی عدل و مساوات کے جاوداں چراغ اس مجلہ کے صفحات میں نمایاں ہوں گے، نیز عصرِ حاضر کے نِت نئے مسائل کا جائزہ لے کر سیرتِ طیبہ میں موجود عملی رہنمائیوں کے ذریعے قارئین کے سامنے اُن کا حل پیش کیا جائے گا؛ تاکہ سیرتِ نبوی ﷺ محض مطالعہ کا موضوع نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بن سکے۔
’’جہانِ سیرت‘‘ کا مقصد یہی ہے کہ سیرت کا پیغام صرف صفحات تک محدود نہ رہے بلکہ دلوں میں اترے، اذہان کو روشن کرے اور ہماری عملی زندگی کا حصہ بنے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا اخلاق، آپ کی فراست، آپ کا عدل، آپ کا حلم، اور آپ کی عبادت … یہ سب ہم میں سے ہر ایک کے اندر نئی زندگی کی لہر بن کر دوڑ جائے۔ اور ہمیں دنیا کے ہر فتنہ اور ہر دجالی نظام کے سامنے ایمان اور عمل کے ساتھ مضبوطی عطا کریں۔