از قلم: مفتی عبد القادر قاسمی
ناظم تعلیمات دینیات منظم مکتب بلال مسجد
عصرِ حاضر اپنی تیز رفتاری، مادہ پرستانہ رجحانات اور فکری انتشار کے سبب اقدار کے عدمِ استحکام اور روحانی کمزوری کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مستند، پائیدار اور حقیقی رہنمائی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم نے ایسے مواقع پر اہلِ ایمان کو صالحین کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین فرمائی ہے: وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ (سورۃ لقمان: 15) یہی وہ پس منظر ہے جس میں حضراتِ صحابیاتِ کرام رضی اللہ عنہن کی مبارک اور مستند زندگیوں کی طرف رجوع ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وہ مقدس ہستیاں جن کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي (متفق علیہ) اور اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ ان کی حیاتِ طیبہ محض ایک تاریخی باب نہیں بلکہ ہر دور، خصوصاً موجودہ پُر فتن زمانے کے لیے ایک زندہ، ہمہ گیر اور قابلِ عمل منہاجِ حیات ہے۔
صحابیات ؓ کی زندگیوں سے واقفیت کو اگر محض تاریخی مطالعہ سمجھ لیا جائے تو یہ اس موضوع کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ درحقیقت یہ مطالعہ ایمان کی تجدید، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی تشکیل کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم نے ایمان والوں کو ایسے نمونوں سے سبق لینے کا حکم دیا ہے: لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (سورۃ یوسف: 111) صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم کی زندگیاں سیرتِ اسلامی کا وہ روشن اور پاکیزہ سرمایہ ہیں جن سے مرد و عورت، نوجوان و بزرگ ہر طبقہ اپنی فکری اور عملی رہنمائی اخذ کر سکتا ہے۔
صحابیاتِ رسولﷺ کی زندگیاں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ ایمانی حرارت، عملی تقویٰ، اخلاقی بلندی اور انسانی وقار کے مستند نمونے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کے کردار اور اس کی دینی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِهَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ (صحیح مسلم) صحابیات کی زندگیاں اس حدیث کی عملی تفسیر ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو عزت و وقار عطا کرنے کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور انسانیت کی تعمیر میں اسے مرکزی مقام دیا۔
صحابیات ؓ کی زندگی سے واقفیت کی شرعی و علمی اہمیت
صحابیات ؓ کی زندگیوں کا مطالعہ دینی علوم کا ایک مستقل اور ناگزیر باب ہے۔ وہ قرآن و سنت کی عملی تفسیر اور قرآنی ہدایات کا مجسم نمونہ ہیں۔ قرآنِ کریم میں مومن خواتین کے لیے جو احکام نازل کیے گئے جیسے پردہ (النور:31، الأحزاب:59)، صبر (البقرۃ:153)، صدقہ و خیرات (البقرۃ: 261) اور ایمان میں استقامت (فصلت: 30) صحابیات نے انہیں اپنی عملی زندگی میں من و عن نافذ کر کے دکھایا۔ اس اعتبار سے ان کی حیات‘ قرآنی آیات کی عملی اور زندہ تفسیر ہے۔
اسی طرح صحابیات ؓ کا تذکرہ سیرتِ نبوی ﷺ کا جزءِ لا ینفک ہے۔ ازواجِ مطہرات کے بارے میں قرآنِ کریم نے فرمایا: وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ (سورۃ الأحزاب: 34) یہ آیت اس حقیقت کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی گھریلو زندگی اور تعلیمات کا بڑا حصہ صحابیات کے ذریعے امت تک منتقل ہوا۔ حضرت عائشہ جیسی جلیل القدر صحابیہ سے سینکڑوں احادیث کا مروی ہونا اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے۔
قرآنِ کریم نے رسولِ اکرم ﷺ کو أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قرار دیا ہے (سورۃ الأحزاب: 21) اس اسوۂ حسنہ میں مرد و زن دونوں کے لیے جامع رہنمائی موجود ہے، اور صحابیات ؓنے اپنے اپنے دائرۂ عمل گھر، خاندان، تعلیم و تربیت اور معاشرتی خدمات میں اس اسوہ کو اس درجہ کامل کیا کہ وہ قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے ایک مستند اور قابلِ تقلید نمونہ بن گئیں۔
چنانچہ اگر آج کوئی اپنی روح کو طمانیت، اپنے کردار کو وقار اور اپنی زندگی کو مقصدیت عطا کرنا چاہتا ہے تو حضراتِ صحابیات ؓکی سیرت سے وابستگی ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو انہی نفوسِ قدسیہ کے راستے سے جوڑا ہے: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ … رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ (سورۃ التوبہ:100) ان کی حیا، صبر، محنت اور ایمان وہ بنیادی عناصر ہیں جو انسان کو فکری انتشار، اخلاقی زوال اور عملی گمراہی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ذیل میں ان کی مبارک زندگی کے وہ اہم گوشے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے آج کی مسلمان عورتیں نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتی ہے بلکہ اپنے گھر و معاشرے کو بہتر بھی بنا سکتی ہے۔
شخصیت سازی کے پہلو
سماجی شخصیت کی تشکیل: صحابیات ؓ نے ثابت کیا کہ عورت سماج کی بنیادی اکائی ہے۔ ان کا وقار، ان کی زبان کی پاکیزگی، ان کی خیر خواہی اور ان کا جذبۂ خدمت معاشرے کو صحیح سمت دیتا ہے۔
اخلاقی مضبوطی کا پہلو: ان کی زندگیوں میں صدق، حیا، امانت، حلم، ضبط اور مروّت جیسے اوصاف نمایاں تھے۔ یہ اوصاف ہر عورت کے کردار کو وقار اور وزن دیتے ہیں۔
قلبی و روحانی شخصیت: عبادت، دعا، ذکر، تقویٰ اور اللہ پر بھروسہ ان کی شخصیتوں کی بنیاد تھے۔ ان کے دل اللہ سے جڑے ہوئے اور ارادے مضبوط تھے۔
گھریلو زندگی کے پہلو
ماں کے کردار کی رہنمائی: ام سلیم ، فاطمہ اور دیگر کی سیرت بتاتی ہے کہ ماں نسلوں کے کردار کی معمار ہے۔اخلاق، حیا، ایمانی شعور، صبر، سچائی یہ تمام صفات بچے ماں کی گود سے سیکھتے ہیں۔
بیوی کے کردار کی رہنمائی: حضرت خدیجہ، حضرت سودہ اور حضرت عائشہ ؓ کی سیرتوں سے یہ اصول ملتے ہیں: محبت میں وفا، اختلاف میں حکمت، گھر کے امور میں تعاون، اور شوہر کے ساتھ وقار اور نرمی—یہی کامیاب ازدواجی زندگی کے ستون ہیں۔
بیٹی اور بہن کے کردار کی رہنمائی: بیٹی رحمت، بہن تعاون اور محبت کا مرکز صحابیات ؓ نے گھریلو فضا کو ادب، حیا اور قربانی سے روشن رکھا۔
خاندانی نظام کا استحکام: انہوں نے بتایا کہ عورت گھر کی بنیاد بھی ہے اور گھر کا حسن بھی۔ صبر، حکمت اور عفو سے گھر جنت بنتا ہے۔
تعلیم و ذہنی تربیت کے پہلو
حصولِ علم کا حق اور ذمہ داری: حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت اسماء ؓ سمیت کئی صحابیات ؓ نے علم کی پیاس اور اس کی خدمت کا نمونہ دکھایا۔ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا گھر اور معاشرے دونوں کے لیے سرمایہ ہے۔
تدریس و تربیت کا کردار: بعض صحابیات ؓ معلمہ و مربیہ تھیں۔ علم پہنچانا، قرآن سکھانا، اخلاق سکھانا—یہ ان کی عملی خدمات تھیں۔
فکری مضبوطی اور شعور: سیرتِ صحابیات ؓ یہ بتاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ عقل، حکمت اور فہم بھی ضروری ہیں۔ وہ جذبات اور عقل دونوں میں متوازن تھیں۔
ان شاء اللہ یہ کالم آئندہ شماروں میں صحابیات ؓ کی حیات کے مذکورہ گوشے اور اسی قسم کے نئے گوشوں کو مزید تحقیق، مثالوں اور تفصیلات کے ساتھ پیش کرتا رہے گا، انتہائی سعادت کی بات ہے کہ یہ ’’گوشۂ خواتین‘‘ بندۂ ناچیز کوتفویض کیا گیا، تاکہ آج کی خواتین کے لیے ان مقدس ہستیوں کے کردار سے روشنی لے کر پیش کی جا سکے۔
اللہ تعالیٰ مجھ تہی دامن سےاپنےفضل وکرم سے اس ذمہ داری کو بحسن خوبی پورا کرائے ۔ آمین