از قلم: محمد اسجد قاسمی
ایک چھوٹا سا بچّہ تھا، اس کا نام ابو عمیر تھا۔ اُسے پرندے بہت پسند تھے۔ اس نے ایک ننھا سا پرندہ پال رکھا تھا، جس کے ساتھ وہ کھیلتا اور وقت گزارتا تھا۔ وہ ننھا پرندہ ابو عمیر کا پیارا ساتھی تھا۔
ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ ننھا پرندہ مر گیا۔ اپنے پیارے دوست کے بچھڑنے سے ابو عمیر بہت اُداس ہو گیا، اس کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔ جب پیارے رسول ﷺ ابو عمیر کے گھر تشریف لاتے تو محبت بھرے انداز میں اس سے بات کرتے اور نرمی سے فرماتے: ’’اے ابو عمیر! تمہارے ننھے پرندے کا کیا ہوا؟‘‘
یہ پیار بھرے الفاظ سن کر ابو عمیر کا دل ہلکا ہو جاتا اور اُسے یہ احساس ملتا کہ کوئی اس کے غم کو سمجھتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے۔
پیارے بچو! اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پیارے نبی ﷺ بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے، اُن کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آتے۔ اور پیارے نبی ﷺ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اگر ہمیں کوئی تکلیف پہنچے تو ہمیں اس پر صبر کرنا چاہئے۔