مطالعۂ سیرت کی عصری معنویت

از قلم: مولانا نواب عالم ندوی

مہتمم جامعہ معین الدین چشتی اجمیر
جنوری تا مارچ 2026 ء
مطالعۂ سیرت کی عصری معنویت

سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ ایک مؤمن کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ روزمرہ کے معاملات ہوں یا بدلتے ہوئے عالمی مسائل و مشکلات، ہر حالت میں مؤمن کو جگہ جگہ قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ سیرت و سنتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا: اَطِیعُوا اللّٰهَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ (سورۃ النساء: آیت نمبر59) اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (سورۃ آلِ عمران: آیت نمبر 31) (اے پیغمبر!) کہہ دو: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ دین کی پیروی سیرتِ رسول ﷺ کی رہنمائی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ کسی ایک عہد یا کسی مخصوص خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر دور اور ہر خطے کے اہلِ ایمان کے لیے ناگزیر اور دائمی رہنمائی ہے۔

آپ ﷺ شریعت کے شارح ہیں۔ آپ کی ذاتِ اقدس جملہ دینی معاملات میں ایک مؤمن کے لیے عمل کی کسوٹی ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں یہ حقیقت ان الفاظ میں بتاتا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب: 21) حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ یعنی اہلِ ایمان کے لیے سب سے اعلیٰ اور کامل نمونۂ عمل صرف ذاتِ محمدی ﷺ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ اور آپ کی سیرت و سنت سے اہلِ ایمان کی وابستگی کے کئی پہلو ہیں، جن میں سب سے نمایاں پہلو عملی اتباع ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (صحیح البخاری:حدیث نمبر 15، صحیح مسلم:حدیث نمبر 44) تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ یعنی اگر رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کے مقابلے میں کوئی اور تعلق یا شے زیادہ عزیز ہو تو ایمان اپنی تکمیل کو نہیں پہنچتا۔

محبّت الٰہی کے بعد سب سے بڑا درجہ محبتِ رسول ﷺ کا ہے، اور عبادتِ الٰہی کے بعد اطاعتِ رسول ﷺ کا مقام ہے۔ نبی ﷺ کی عبادت نہیں کی جاتی، لیکن وہ عبادتِ الٰہی اور اطاعتِ دین کے سب سے بڑے رہنما اور عملی نمونہ ہیں۔

اور قرآن کا اعلان ہے: اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ (سورۃ آلِ عمران: آیت نمبر 31) اس آیت سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ محبتِ الٰہی کی تکمیل اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر ممکن نہیں، اور اسی اتباع کے نتیجے میں اہلِ ایمان دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہمیشہ سے اہلِ ایمان کے لیے مسلم رہی ہے۔ اس کے مقام میں نہ کبھی کمی آئی ہے اور نہ آسکتی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اس تعلق میں بیداری پیدا کرنا، ایک مؤمن کی زندگی میں سیرت و سنتِ رسول ﷺ کے صحیح مقام اور اس کے تقاضوں کو واضح کرنا، اور اسی طرح انسانیت کے لیے اسلام کی تعلیمات میں موجود رحمتوں، برکتوں اور حکمتوں کو نمایاں کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔

کیونکہ یہ فتنوں اور دین بیزاری کا دور ہے۔ ایک طرف اہلِ ایمان خود دین، اس کے تقاضوں، اور اس میں پوشیدہ رحمتوں، برکتوں اور حکمتوں سے بڑی حد تک ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔

یہاں تک کہ یہ کیفیت ملت کے تعلیم یافتہ طبقے میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ عام لوگوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے جس کے بیان کی حاجت ہی نہیں۔دوسری طرف معاشرے کے وہ طبقات ہیں جو مختلف اسباب اور محرکات کے نتیجے میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف محاذ آرا ہیں۔ ان کا مشغلہ سبّ و شتم، طعن و تشنیع اور نفرت انگیزی بن چکا ہے۔ ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو حق کو جانتے ہوئے بھی یہ روش اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن اکثریت ان افراد کی ہے جو حقیقتِ حال سے ناواقف ہیں اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر اسلام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس لیے موجودہ حالات میں اہلِ ایمان کا فریضہ ہے کہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کو عملی طور پر واضح کریں، خود اپنی زندگیوں میں اس پر عمل کریں، اور ایک مثالی قرآنی و نبوی معاشرے کی تشکیل میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Scroll to Top