از قلم: مفتی ذاکر حسین ندوی
سی پی ایس انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی
سیرتِ نبوی سے مراد رسول اللہ ﷺ کی وہ مکمل اور ہمہ گیر زندگی ہے جس میں آپ کے اقوال، اعمال، اخلاق، عبادات، معاملات، دعوت، قیادت اور معاشرت سب شامل ہیں۔ سیرت محض تاریخی معلومات یا واقعات کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ہدایت کا وہ زندہ اور متحرک نمونہ ہے جو ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اصول عطا کیے اور رسول اللہ ﷺ نے ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر کے دکھایا، اس لیے سیرت کا مطالعہ دراصل قرآن کے پیغام کو زندگی میں سمجھنے، اپنانے اور نافذ کرنے کی عملی تربیت ہے۔
قرآنِ مجید کا اعلان ’’لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة‘‘ (33:21) اس حقیقت کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ ایمان محض نظری عقائد یا زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ ایک کامل نمونے کی پیروی سے مضبوط اور زندہ ہوتا ہے۔ یہ نمونہ صرف عبادات اور روحانی معاملات تک محدود نہیں؛ بلکہ گھریلو زندگی، ازدواجی تعلقات، بچوں کی تربیت، معاشی معاملات، وعدوں کی پابندی، اختلاف کے آداب، عدل و انصاف، امانت داری اور اجتماعی ذمہ داری تک پھیلا ہوا ہے۔ سیرت نبوی اسی کامل نمونے کی تفصیل ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں واضح اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
موجودہ دور میں سیرت نبوی کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ انسان فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، روحانی خلا اور عملی دباؤ کا شکار ہے۔ مادیت نے زندگی کو مقصدیت سے خالی کر دیا ہے، ترقی اور مساوات کے نام پر سکون اور عدل وانصاف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سیرت یہ واضح کرتی ہے کہ دین چند رسوم یا محدود احکام کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ایک ہمہ گیراور مکمل نظام حیات ہے جو فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ اسلام میں روحانیت اور اجتماعیت ایک دوسرے سے جدا نہیں؛ بلکہ باہم مربوط ہیں، اور کردار کی تعمیر انفرادی سطح پر بھی ہوتی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔
سیرت نبوی انسان کو اصولی، متوازن اور حقیقت پسندانہ سوچ عطا کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ محض واقعات پڑھنے یا تاریخی تسلسل جاننے کا نام نہیں؛ بلکہ ان واقعات کے پس منظر میں موجود حکمت، اخلاقی معیار، ترجیحات اور فیصلوں کی روح کو سمجھنے کا عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک بکھرے ہوئے، قبائلی تعصبات میں جکڑے اور اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرے میں عدل، رواداری، معاہدے کی پاسداری، اخلاقی نظم اور اجتماعی ذمہ داری کا ایسا مضبوط نظام قائم کیا جو آج کے جدید، مختلف تہذیب و ثقافت اور ڈیجیٹل معاشرے میں بھی مکمل اور مؤثر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
سیرت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ وہ قرآن اور سنت کے باہمی ربط کو واضح کرتی ہے۔ قرآن اصل ہدایت ہے اور سیرت اس ہدایت کی عملی اور مجسم شکل۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ’’تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهٖ‘‘ (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر :1874) اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ہدایت اور کامیابی قرآن اور سیرت دونوں سے وابستگی میں ہے۔ جب قرآن کو سیرت کی روشنی میں اور سیرت کو قرآن کے دائرے میں سمجھا جائے تو دین محض نظری گفتگو نہیں رہتا بلکہ زندگی کی مکمل رہنمائی بن جاتا ہے۔
سیرت نبوی کا مطالعہ اگر منظم، علمی اور فکری انداز میں کیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں، چاہے یہ مطالعہ ترتیب وار ہو یا موضوعاتی۔ اس مطالعے کا سب سے بڑا حاصل محبت رسول ﷺ ہے، جوکہ ایمان کا جزولاینفک ہے ( لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ؛ صحیح بخاری، حدیث نمبر 15) اور محبت آپ ﷺ کی اطاعت، اتباع اور اخلاقی اصلاح کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ سچائی، امانت، صبر، حلم، عفو و درگزر، خدمت خلق، عدل پسندی جیسی اعلی صفات اسی اتباع سے انسان کی شخصیت میں راسخ ہوتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے مشاورت، برداشت، عدل اور حکمت کے ذریعے ایسی قیادت فراہم کی ہے، جس میں فرد کی عزت بھی محفوظ رہتی ہے اور اجتماعی مفاد بھی۔ یہ پہلو آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے جہاں طاقت، مفاد اور وقتی کامیابی کو قیادت کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ سیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل قیادت خدمت، امانت اور جواب دہی کا نام ہے۔ سید القوم خادمھم
یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ سیرت نبوی صرف ماضی کی یاد یا تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر ہے۔ عصرِ حاضر میں علم تو بآسانی میسر آجاتا ہے لیکن حکمت گم ہوتی جا رہی ہے، وہاں سیرت ،حکمت عطا کرتی ہے۔ جہاں جذبات اور انتہاپسندی غالب آ جاتی ہے، وہاں سیرت، اعتدال اور ضبط سکھاتی ہے۔ اور جہاں کامیابی کے معیار بدل جاتے ہیں، وہاں سیرت، یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا، اخلاقی بلندی اور انسانوں کے حقوق کی ادائیگی میں ہے۔ یہی سیرتِ نبوی کا پیغام ہے اور یہی عصر حاضر کے مسائل کا جامع اور دیرپا حل۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے، اپنانے، اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے اور اپنے نبی ﷺ کی سچی محبت، کامل اتباع اور اخلاص کے ساتھ اطاعت نصیب فرمائے، آمین۔
وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُل جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا