نبوی کاروباری اخلاقیات

از قلم: پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقیؒ

جنوری تا مارچ 2026 ء
نبوی کاروباری اخلاقیات

ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہم دین اور دنیا کو تقسیم کرتے رہے ہیں، اور آج سے نہیں، مدتوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ قرآنِ مجید اور رسولِ اکرم ﷺنے کبھی بھی دین اور دنیا کی تفریق نہیں کی، جس کے ضمن میں کئی آیات و احادیث بیان کی جاسکتی ہیں، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اگر یہ دنیا اتنی ہی دَنی اور خراب ہوتی تو اس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہرگز تشریف نہ لاتے۔ آپ ﷺ نے دین و دنیا کا، مادے اور روح کا انسان اور اس کی دنیا کا عالمِ ملکوت سے جو تعلق جوڑا ہے، بنیادی طور پر وہی اصل چیز ہے۔

ہم نے ایک یک طرفہ یا جانبدارانہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ روحانیت صرف نماز روزے، تسبیح پڑھنے، اور قرآن کی تلاوت کرنے، یا اسے بیان کرنے، یا وعظ و نصیحت کرنے میں ہے۔ ہم نے یہ بھلا دیا کہ رسول اللہ ﷺ تاجر تھے، اور آپ ﷺ کے خاندان میں تجارت کا سلسلہ مدتوں سے چلا آرہا تھا۔ خود آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں تجارت کو فروغ دیا، اور ایک معمولی اجیر ،یا کام کرنے والے سے ترقی کرکے آپ ﷺ ایک کاروباری نمائندے بنے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کاروباری زندگی میں Sleeping partner اور Active partner کا تصور رسول اللہ ﷺ نے دیا، اور پھر آپ ﷺ ایک آزاد (Independent) تاجر بنے۔ آپ ﷺ نے اس تجارت کو صرف اپنی (ذاتی) زندگی میں ہی فروغ نہیں دیا، بلکہ اس سلسلے کو پورے معاشرے میں ترقی دی۔ اگرچہ مکی زندگی میں تجارت پہلے سے ہی مستحکم تھی، لیکن اس سلسلے میں آپ ﷺ نے اس کی برائیوں کو ختم کیا، اور اچھائیوں کو فروغ دیا۔

کاروباری اخلاقیات کےنظری و عملی پہلو

کاروباری اخلاقیات کا ایک تو نظریاتی پہلو (Theoretical aspect) ہے، جو قرآنِ مجید کی آیات میں ملے گا، جیسا کہ ابھی تلاوت کی گئی آیات میں بتایا گیا کہ وزن صحیح رکھو، لوگوں کو صحیح ماپ تول کرکے دو، ان کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اور اس کو فساد فی الارض سے جوڑا۔ اور اس میں بہت اہم بات یہ ہے کہ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ میں  لفظ ’’قِسْط‘‘ سے اس کو ایک اہم ترین چیز بنادیاکہ ناپ تول صرف یہ نہیں کہ آپ پوری کریں، بلکہ انصاف، عدل اور قسط کے ساتھ کریں۔ اور قسط، عدل سے بڑھ کر ہے کہ عدل میں تو برابر کا معاملہ ہوتا ہے کہ جس کا جو حق ہے، وہ اسے دے دیں۔ اور ’’قسط‘‘ میں ایک کارِ خیر کا پہلو ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو صرف ان کا حق ہی نہ دیں، بلکہ اس سے زیادہ دیں۔

اس میں دو چیزیں پائی جاتی ہیں جو نہ صرف آپ ﷺ کی زندگی میں پائی جاتی تھیں، بلکہ آپ ﷺ نے اسے اپنے معاشرے میں بھی فروغ دیا۔ پہلی چیزیہ کہ آپ ﷺ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی تجارتی کاروبار کرتے، کوئی لین دین، مضاربت، یا مشارکت کا معاملہ فرماتے، اس میں آپ ﷺ خود بھی اخلاقیات برتتے، اور معاشرے میں بھی ان کو فروغ دیتے تھے۔ تاکہ وہ اخلاقی اصول صرف آپ ﷺ کی ذات تک محدود نہ رہیں، بلکہ دوسروں تک بھی پہنچیں۔ لہٰذا جب تک یہی سلسلہ ہمارے ہاں رائج نہ ہوگا، اس وقت تک ان (اخلاقیات) کو فرد سے اجتماع اور معاشرت میں پہنچانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک بہت دلچسپ واقعہ ہےکہ اصحابِ رسولِ اکرم ﷺ میں ایک بار اس پر گفتگو شروع ہوگئی کہ تجارت یا مالی کاروبار بنیادی اہمیت یا فضیلت کا حامل ہے، یا زراعت ودیگر؟ چونکہ زراعت سے وابستہ جو لوگ تھے، وہ بھی مدینہ منورہ میں تھے، اور آپ ﷺ بھی دس سال مدینہ منورہ میں گذارچکے تھے، اور دوسری طرف مکہ میں دونوں قسم کی صورتحال موجود رہی تھی۔ اگرچہ مکہ میں زیادہ تر تجارت ہی تھی، لیکن مکہ ہی کے برابر، طائف شہر ، و دیگر علاقوںمیں تجارت اور زراعت، دونوں کا چلن موجود تھا۔ لہٰذا اس مدعا پر بحثیں ہوئیں کہ ان دونوں میں سے افضلیت کسے حاصل ہے؟ رسول ا للہ ﷺ اس بحث کو سنتے رہے اور پھر فرمایا کہ نہ تو تجارت کو زراعت پر افضلیت حاصل ہے، نہ زراعت کو تجارت پر، دونوں ہی زندگی کے پہلو ہیں۔ہم ان میں سے جسے بھی نظرانداز کریں گے، نقصان اٹھائیں گے۔

یہ اخلاقیات قرآنِ مجید میں پائی جاتی ہیں۔ اور رسول ِاکرم ﷺ کی سیرت بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ جب کسی سے لین دین فرماتے تو لڑائی جھگڑا کرنے کی بجائےبہت ہی سلوک، محبت، اور مروت سے پیش آتے۔ کوئی چیز خریدتے تو اس کی قیمت پوری ادا کرتے، وعدہ کرتے تو پورا کرتے۔ اس قسم کے کتنے ہی واقعات موجود ہیں۔ اور قرآن مجید کی آیات میں بھی یہی تعلیم ملتی ہے کہ وزن پورا دو، اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ جیسے حضرت شعیب ؈ کے علاوہ ﴿وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ﴾ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید کی ان تمام آیات کو جمع کیا جائے تو یہ نظریاتی پہلو، یا (Theoretical aspect) واضح ہوتا ہے۔

لیکن اصل میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ان نظریاتی پہلوؤں کو رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کیسے اتارا، اور کیسے برتا۔ ہم قرآنِ مجید کی آیات پڑھتے ہیں، اور حضرت عائشہ ؅ کا وہ تبصرہ بھی پڑھتے ہیں کہ جب پوچھا جاتا تھا کہ آپ ﷺ کا اخلاق کیا تھا؟ تو فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ اخلاق ِ قرآن تھا کیسا؟ اس بات پر بہت غورکیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور ان کے ساتھ رسول بھی ضرور بھیجے، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول نہ بھیجا ہو، خالی کتاب نازل کردی ہو۔ رسول کی موجودگی بہت بنیادی چیز ہے جو اس کتاب کے عملی پہلو کو لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہے، اور اس کو برت کر دکھا دیتی ہے۔ اور قرآن مجید میں وارد نظریاتی بحثوں کو رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؇ نے اپنی زندگی میں برت کر دکھا دیا۔

یہاں اخلاقیات کی بحث ایک عملی صورت اختیار کر لیتی ہے، ہم رسولِ اکرم ﷺ کی نظریاتی اور عملی چیزوں کو دیکھتے ہیں، اس لیے کہ جب کسی نظریاتی وفکری اساس پر مبنی عمل کو معاشرت میں برتا جاتا ہے اور عمل میں لایا جاتا ہے، تو وہ عملی چیز بن جاتی ہے۔ گویا ایک اساسی نظریہ، فکر و عمل بن جاتا ہے۔

 

پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی ؒ(م 2020ء) عصرِ حاضر کے ان ممتاز محققین میں سے ہیں جنہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کو محض روایت نہیں؛ بلکہ باقاعدہ علمی تحقیق کا درجہ دیا۔ انہوں نے سیرت کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا جن پر یا تو پہلے کام نہیں ہوا تھا یا اُن موضوعات پر نہایت ہی کم توجہ دی گئی تھی۔ ان کی تصانیف میں کمیت کے ساتھ کیفیت، وسعت کے ساتھ گہرائی اور تنوع کے ساتھ فکری ربط نمایاں ہے، اور بالخصوص سیرتِ نبوی ﷺ کے مکی دور پر اُن کی معرکہ آرا تحقیقات نے انہیں سیرت نگاری میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کیا۔

جب میں نے پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی ؒ کی کتب کا مطالعہ شروع کیا تو جلد ہی یہ احساس گہرا ہوتا چلا گیا کہ ان کا منہجِ تحقیق اور اسلوبِ نظر انہیں عام سیرت نگاروں کی صف سے الگ کھڑا کرتا ہے۔ ان کے ہاں سیرت محض واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک زندہ فکری نظام، ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات اور عصرِ حاضر کے سوالات کا سنجیدہ جواب بن کر سامنے آتی ہے۔

یہی فکری گہرائی اور تحقیقی وقار تھا جس نے مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا۔ اسی احساسِ وابستگی اور علمی قدردانی اور سیرت نگاری کے میدان میں اُن کی منفرد علمی خدمات کے اعتراف میں سہ ماہی مجلہ ’’جہانِ سیرت‘‘ کا یہ شمارہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں ان کے علمی ورثے اور ان کی تحقیقات کو نئی نسل کے قارئین اور محققین کے سامنے نگارشات کے طور پر پیش کیا جائے گا؛ تاکہ وہ اس علمی سرمائے سے فیض یاب ہوں اور سیرتِ نبوی ﷺ کے اس سنجیدہ، متوازن اور فکری مطالعے کا ذوق فروغ پائے جس کے وہ نمایاں علم بردار تھے۔

یہ تحریر جی سی ویمن یونیورسٹی، سیالکوٹ میں منعقد کانفرنس بعنوان ’’سیرتِ رسول ﷺ کی عصری معنویت اور عہدِ جدید کی تحدیات‘‘ میں نبوی کاروباری اخلاقیات کے موضوع پر دیے گئے خطبے سے ماخوذ ہے، اس خطبے کو صوتی قالب سے تحریری صورت میں ڈاکٹر محمد حفیظ الرحمٰن صاحب نے منتقل کیا، جبکہ حافظ محمد عارف گھانچی کی عنایت و توجہ کے باعث یہ قیمتی علمی تحریر ہم تک پہنچی۔

انتخاب و پیش کش:-

محمد افتخار الحسن خندہ سہارن پوری

ڈائریکٹر: مکتبہ امام ابوالحسن علی الندوی

Scroll to Top