از قلم: عمارہ فردوس جالنہ مہاراشٹر
عالمہ، فاضلہ، ایم اے، بی ایڈ
اس زمین پر اللہ رب العالمین نے مرد اور عورت دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو پروان چڑھایا تاکہ دونوں مل کر زمین کا انتظام سنبھالے۔
اسی لیے آدمؑ کا تذکرہ ماں حواؑ کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ابراہیم ؑ کی دعوت کا ذکر حضرت ہاجرہ کی قربانیوں کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت موسیؑ کی جانگسل کوششوں میں حضرت آسیہ و حضرت صفوراؑ کا کردار نمایاں ہے اور نبی آخر الزماں ﷺ کی انتھک کوششوں کا ذکر مبارک جب بھی کیا جائے تو امہات المؤمنین کا ذکر خود بہ خود لبوں پر آ جاتا ہے۔
مردوں کے ساتھ عورت کا یہ رول تاریخ میں اس طرح نمایاں رہا ہے کہ قیامت تک اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن مغرب کے مفکرین اور مؤرخین نے مسلم عورتوں کا نہایت بھیانک نقشہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح یورپ کی عورتیں انتہائی پسماندہ اور مرد کے ظلم و ستم اور ہوس رانیوں کا نشانہ بنی رہیں، اسی طرح مسلم عورتیں بھی مرد کی قید میں رہی ہیں اور علم و ادب کی خدمت تو کجا ان کو سورج کی روشنی تک دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ یہ پروپیگنڈہ کھڑا کرنے کا سبب یہی ہے کہ مسلم خواتین اپنے مقام و منصب کو بھلا کر جس معاشرے کے ہاتھوں میں پہنچی اس نے اپنے مطابق عورت کا استعمال کیا۔ چنانچہ اس تحریر میں عصرِ حاضر میں خواتین کے مسائل کا حل سیرت صحابیات کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خواتین، گھر اور سیرت صحابیات:
گھر ایک گہوارہ ہوتا ہے جس کی آغوش میں مصلحین پرورش پاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کارخانہ ہے جہاں سے انسانی معاشرے کو افراد مہیا ہوتے ہیں۔ اور انھیں افراد سے سماج (معاشرہ ) تشکیل پاتا ہے۔ گھر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ مربی اعظم ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کیا اور روزِ اول سے آپ ﷺ کے شانہ بشانہ رہنے والے آپ کے اپنے گھر والے تھے۔ جس کا اثرانقلابِ اسلام میں آج بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
گھر کی چہار دیواری میں ماں ایسے سپوت تیار کرسکتی ہے جو اسلام کی خاطر سینہ سپر ہونے والے ہوں۔ ایسی بیٹیاں پروان چڑھا سکتی ہیں جو عفت و حیا کی تاجدار ہوں۔ شاعر حافظ ابراہیم نے خوب کہا ؎
الأم مدرسۃ اذا اعددتھا
اعددت شعبا طیب الاعراق
(ماں ایک مدرسہ ہے، اگر آپ نے اس کی اچھی تربیت کردی
تو گویا کہ آپ نے نیک فطرت خاندان تیار کردیا)
علامہ اقبال نے اس کو یوں فرمایا ؎
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
عورت کا کام اگلی نسل کی تربیت اور انسان سازی ہے۔ جب شیطان اور اس کے حواریوں نے عورت کے اس مقام کا اندازہ لگایا اور یہ حقیقت ان پر آشکارا ہوئی کہ قوموں کو بام عروج تک پہنچانے والی عورت ہے، خاندان کو سنوارنے والی عورت ہے، تخم انسانیت کی آبیاری اسی کی مرہون منت ہے اور گھر جیسا اہم ادارہ اسی کے ہاتھوں سنورتا ہے ، تو شیاطین اور اسکے حواریوں نے اپنا جال بچھایا اور عورت کو ہدف بناکر اسے قعر مذلت میں ڈھکیلنے کی اسکیم تیار کی۔ اسی وجہ سے عورت کو گھروں سے نکال کر بازاروں کی زینت بنایا گیا۔ چنانچہ عصرِ حاضر میں گھر کا محاذ چھوڑ کر عورت گوناگوں مسائل کا شکار ہوگئی۔ اس لحاظ سے مسلم خواتین میں گھر کے اندر اپنے اہم رول اور ذمہ داریوں کا شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ سیرت نبوی ﷺ کی رہنمائی اور صحابیات کی گھریلو زندگیوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی تربیت کا اثر تھا کہ ان کی گود سے حضرت حسن ؓ اور حسینؓ جیسے مجاہد اٹھے۔ جنھوں نے اسلام کی حرمت پر اپنی جانیں قربان کردیں۔
حضرت خنساءؓ کی حسن تربیت اس واقعے میں جھلکتی ہے۔ جب انہوں نے اپنے چار بیٹوں کو قادسیہ کے میدان میں یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ’’میرے بیٹو! جب اسلام کی حفاظت کے لیے میدان میں پہنچو تو پھر پلٹ کر مت آنا تاکہ میں کل قیامت کے دن شہید بچوں کی ماں کہلاؤں۔‘‘
قرنِ اول کی وہ بہادر خاتون جس نے اپنے بیٹے کے بارے میں یہ خبر سنی کی ظالم مسیلمہ کذاب نے اسکے جواں سال بیٹے کو سولی پر چڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ تو بہت ہی اطمینان سے کہنے لگیں کہ میں نے اپنے فرزند کو اسلام کے لیے ہی پیدا کیا تھا۔
یہ عظیم کردار عظیم ماؤں کی گود میں پلتے ہیں۔ ایک مؤمنہ خاتون اپنے بیٹے کو ایمان کی گھٹی پلاتی ہے۔ اور اپنے دودھ کے قطروں کے ساتھ وہ جذبات اپنی اولاد میں منتقل کرتی ہیں جو اسکے سینے میں مچلتے ہیں۔ چنانچہ دور نبوی کی خواتین اپنے بچوں میں ایمان کی پختگی، دین کا شعور، اسلام کے لیے سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ پیدا کرنے والی خواتین تھیں۔ خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کو پاکیزہ کردار، عظیم انسان اور درویش صفت بندے میسر آتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو گھر کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے فرمایا:
’’والمرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا و مسؤولۃ عن رعیّتھا‘‘ (صحیح بخاری: ۸۹۳)
یعنی: عورت اپنے شوہر کے گھر میں ذمے دار کی حیثیت رکھتی ہے
اور وہ اپنی رعایا کے سلسلے میں جواب دہ ہے۔
سیرت صحابیات کی روشنی میں گھروں کے اس اہم رول کو پیش نظر رکھ کر ہی معاشرہ کی بہتری کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔
عصرِ حاضر میں گھر کی یہ اہمیت جیسے ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوئی معاشرہ کی تعمیر بہتر طور سے ممکن نہ ہوسکی۔ کیونکہ گھر سوسائٹی کے بنانے میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اینٹیں ہی ناقص اور بوسیدہ ہوں تو کیسے ایک مضبوط عمارت کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ اگر خاندان ہی بکھر جائے تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرون اولی کی خواتین اپنے گھر بار کو سنوارنے والیں، اپنی اولاد کو دین کی روشن تعلیمات سے مزین کرنے والیں اور باپردہ و با حجاب رہ کر معاشرے کو اسلامی قدروں پر تعمیرکرنے والی تھیں۔
لیکن آج عورت کو گھر کے محاذ سے ہٹانے میں جو مسائل معاشرے اور گھروں میں پیش آرہے ہیں، اس نے خاندان کی چولیں ہلادی ہیں۔ آزادیٔ نسواں کی مہم نے عورت کو بے لباس کرکے بازاروں اور نمائش گاہوں کی زینت بناکر گھر کے نظام کو آگ لگا دی۔
خواتین کے معاشی مسائل، نبوی رہنمائی اور سیرت صحابیات:
عصر حاضر میں مغربی اذہان زور و شور سے یہ آواز اٹھاتے ہیں کہ: اسلام نے عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج بنایا، جس کی بنا پر وہ حقیر سمجھی جاتی ہے۔ عورت بھی معاشی تگ و دو کرکے اپنا بہتر مقام حاصل کرسکتی ہے۔ اور فی زمانہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عورت کی کمائی بھی ضروری ہے۔‘‘ ان آوازوں کے ذریعے مغربی معاشرے نے عورت کو باہر نکالنے میں بڑی حد تک کامیابی تو حاصل کرلی؛ لیکن اس کا خمیازہ عورت ہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے؛ کیونکہ معاشی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہوجانا گویا طاقتور اور کمزور کا مقابلہ ہے۔ پھر گھر کا ادارہ جو اس کی پہلی ذمہ داری تھی، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ عورت گھر اور آفس دو جگہ کام کرکے اپنے جسمانی صلاحیت کھو بیٹھی، اپنے بچوں کو ملازمہ کے حوالے کرکے تھکی ماندی چڑچڑاہٹ کا شکار ہوکر دماغی امراض میں مبتلا نظر آنے لگی اور باہر جاکر مخلوط سوسائٹی کے ذریعے بے حیائی اور فحاشی کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ ناجائز بچوں کی کثرت ہوگئی۔ اسقاط حمل، جنسی امراض کی کثرت، جنسی جرائم میں اضافہ ہوا۔ خاندان برباد ہوگئے۔ شیرازے بکھر گئے۔ بچے ماں باپ کی محبت و شفقت سے محروم ہوکر شراب اور نشہ میں پناہ ڈھونڈنے لگے۔ طلاقوں کی شرح بڑھ گئی۔ اس طرح سوائے دونوں جہاں کی بربادی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس سلسلے میں نبوی رہنمائی اور صحابیات کا کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
عورت کے نان و نفقہ کی مکمل ذمہ داری اسلام نے مرد کے کندھوں پر ڈالی ہے؛ چاہے عورت بیٹی ہو یا بہن ہو، ماں ہو یا بیوی ہو۔ چنانچہ عورت اسراف سے بچ کر اپنے شوہر کے مال کو استعمال کرے۔
دور رسالت میں حضرت ابو سفیانؓ کی بیوی ہندؓ بنت عتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابو سفیان تو خرچ دینے میں تنگی سے کام لیتے ہیں۔ میرا اور بچوں کا خرچ صحیح طور پر پورا نہیں ہوپاتا۔ کیا میں اس کو علم ہوئے بغیر اس کے مال سے کچھ لے لیا کروں؟ فرمایا : ہاں اتنی رقم تم لے سکتی ہو جس سے تمہارا اور بچوں کا خرچ مناسب انداز میں پورا ہوجائے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۱۱)
حضرت ہندؓ نے یہاں آپؐ سے کمانے کی اجازت نہیں مانگی؛ کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اسلام نے عورت کی معاشی پوزیشن کو اتنا مضبوط کیا ہے کہ اسکے تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہے۔ اور نہ آپ ﷺ نے حضرت ہندؓ سے یہ فرمایا کہ باقی خرچوں کا انتظام وہ خود کریں۔ یہ نبوی تعلیمات حکمت سے لبریز اور کامیابیوں کی ضامن ہیں۔
عورت کی پوزیشن نہ صرف شوہر کی زندگی میں مستحکم ہے۔ بلکہ اگر وہ بیوہ یا مطلقہ ہو تو ایسی صورت میں بھی باپ یا بھائی اسکا کفیل ہوگا۔ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے: کیا میں تمہیں بہترین صدقہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اپنی اس بیٹی پر خرچ کرو جو بیوہ یا مطلقہ ہوکر تمہارے پاس آگئی ہے اور اب اس کا کوئی کمانے والا نہیں ہے۔ (ابن ماجہ: ۳۶۶۷)
سوال یہ ہے کہ کیا عورت کی معاشی جدوجہد مکمل طور سے ناقابل قبول ہے یا اس کی گنجائش اسلام میں موجود ہے؟
خواتین کے لیے شوقیہ ملازمت تفریح طبع یا سوشل اسٹیٹس بلند کرنے کی غرض سے جاب (ملازمت) کرنا نہ صرف اسلام کے منافی ہے؛ بلکہ اس کی عفت و حیا کی تاراجی ہے۔ گھر کے قلعوں سے نکلنے کی اجازت اسی وقت ہے، جب ضرورت یا مجبوری ہو۔ اس سلسلے میں بعض تمدنی ضروریات بھی ہیں جو عورت کو بیرون خانہ فرائض کی انجام دہی کا تقاضا کرتی ہیں۔ مثلا زنانہ تعلیمی اداروں میں بچیوں کی تعلیم و تربیت خواتین ہی کے ہاتھوں انجام پانا ناگزیر ہے۔ بلکہ زنانہ اداروں میں استاد، کلرک، وارڈن ، ٹائپسٹ وغیرہ خواتین ہی ہونی چاہئیں۔ ان کے لیے خواتین ہی ڈاکٹر ہوں۔ پھر خواتین کے عدالتی حقوق کی چارہ جوئی کے لیے خواتین وکیل کا ہونا بھی ضروری ہے۔
جیسے حضرت عائشہ صدیقہؓ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ آپؓ پردے کے پیچھے سے تدریس کے فرائض انجام دیتیں۔ یہاں تک کہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ آکر آپ سے مسائل پوچھتے۔
تمدنی ضروریات کے علاوہ بعض اوقات ملازمت کے لیے نکلنا کسی خاتون کی بے انتہا مجبوری ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں ان حدود و قیود کی پاسداری خواتین پر لازم ہے جو شریعت نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں۔ ایسی صحابیات جو بیرون خانہ فرائض انجام دیتی تھیں۔ وہ شرعی احکام کی پاسداری کے ساتھ شوہر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ کی شادی حضرت زبیرؓ سے ہوئی۔ یہ ہجرت کے بعد مدینے کا ابتدائی زمانہ تھا۔ حضرت زبیرؓ اس وقت نادار تھے۔ ایک اونٹ اور ایک گھوڑے کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ دن بھر اللہ کے رسول ﷺ کے تفویض کیے ہوئے کاموں اور مہمات میں مصروف رہتے۔ ایسے میں حضرت اسماءؓ نے گھر اور باہر کے سارے کام اپنے ذمے لے لیے۔ انھیں شدید مشقت کے کام کرنے پڑتے۔ گھوڑے کو چارہ کھلاتیں، ان کے شوہر کے نام کوئی چار میل دور ایک زمین تھی، وہاں پیدل جاتیں، وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں جمع کرکے سر پر لاد کر گھر لاتیں اور انھیں کوٹ کر اپنے اونٹ کو کھلاتیں۔ چمڑے کے مشکیزے کی سلائی کرتیں اور دور سے پانی بھر کر لاتیں۔ (صحیح بخاری: ۵۲۲۴)
حضرت خدیجہؓ کا شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح سے قبل اور بعد میں بھی ان کے مال کے ساتھ متعدد اسفار کیے تھے۔
حضرت سودہ بنت زمعہؓ اور حضرت زینب بنت حجشؓ دونوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ چمڑے کی دباغت کیا کرتی تھیں اور اس سے اچھا خاصا کما لیتی تھیں۔ یہ وہ روشن مثالیں ہیں جن میں خواتین نے شرعی حدود کی پاسداری کے ساتھ اپنے گھر سے باہر بھی خدمات انجام دیں۔
خواتین کی سماجی حیثیت اور سیرت صحابیات:
تمام خاندانوں سے مل کر جو معاشرہ تیار ہوتا ہے اسے سماج کہتے ہیں۔ اسلام پسند خواتین سماج سے کٹ کر نہیں رہتیں؛ بلکہ معاشرے کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’مومن مرد اور خواتین آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے منع کرتے ہیں۔‘‘ (التوبہ:۷۱)
مسلم معاشرے میں خواتین کی سماجی حیثیت سے متعلق بڑے ہی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ ایک طرف اس کو گھر کی چہار دیواری میں قید کرکے بالکل ہی سماج سے کاٹ دیا گیا۔ دوسری طرف اس کو گھر سے باہر کرکے مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے والی تیسری صنف بنا دیا گیا۔ اس معاملے میں جو توازن درکار ہے وہ قرن اول کی خواتین میں نظر آئے گا۔ جو اپنے گھروں کی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود باحجاب ہوکر سماج کے بعض اہم شعبوں میں خوب سرگرم عمل رہیں۔ اسی لیے اسے معاشرے کی گاڑی کا دوسرا پہیہ کہا جا سکتا ہے۔
حضرت عائشہؓ کی ایک خاص شاگردہ حضرت بریرہؓ تھیں۔ حضرت عائشہ نے انھیں خرید کر آزاد کیا تھا اور علم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔ عبد الملک بن مروان اموی بادشاہ تھا۔ تخت نشینی سے پہلے وہ مدینہ میں رہتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ میں بریرہؓ کے پاس علم حاصل کرنے بیٹھتا تھا۔ وہ مجھ سے کہا کرتی تھیں: اے عبد الملک! میں تمہارے اندر ایسے اوصاف دیکھتی ہوں کہ لگتا ہے تم مسلمانوں کے حکمران بنوگے۔ میری تمہیں نصیحت ہے کہ اگر تمہیں اقتدار ملے تو خوں ریزی سے بچنا۔ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کہتے سنا ہے: ’’جس شخص نے کسی مسلمان کا ناحق تھوڑا سا خون بہایا ہوگا اسے جنت دیکھ لینے کے بعد اس کے دروازے سے دھکیل کر دور کردیا جائے گا۔‘‘(معجم کبیر: ۵۲۶)
یہ ایک مسلم خاتون کا سماجی رول ہے جسے اہل منصب کی اصلاح کی فکر غالب تھی۔
امام احمدؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت عطیہؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، مرد میدان جنگ میں چلے جاتے تو میں ان کے پیچھے ان کے لیے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی خبر گیری کرتی۔ (صحیح مسلم :۱۸۱۲)
رسول اللہ ﷺ کا سفر ہجرت ایک خفیہ سفر تھا۔ لیکن اس سفر میں زاد راہ تیار کرنے والی اور تین دن تک غار ثور میں کھانا اور پانی بھجوانے والی خاتون حضرت اسماءؓ تھیں۔
حضرت فاطمہ بنت خطاب جن کی استقامت کو دیکھ کر حضرت عمر جیسے اولوالعزم شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو گیے۔ گویا اسلام کے شجر کو تناور کرنے میں خواتین نے اول دن سے اپنا رول پیش کیا۔ اور معاشرے کی گاڑی کا دوسرا پہیہ بن کر اس کی تعمیر کو دینی فریضہ سمجھا۔
عصر حاضر میں مسلم خواتین سیرت صحابیات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں۔ نبوی رہنمائی میں اپنی زندگیوں کو تعمیر کریں۔ سیرت کے پاکیزہ نقوش پر چل کر گھر، خاندان، سماج اور ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کریں، تو یقینا معاشرے میں انقلاب آ جائے گا۔ خواتین کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کسی انجمن اور کانفرنس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نہ ہی خواتین کے حقوق کے ادارے انھیں بھیک میں حقوق دینے کا شور مچائیں گے۔
بلکہ عورت خود اپنی داستان رقم کرسکے گی، اپنے عظمت و رفعت کی داستان!
اپنے اس اونچے مقام کی داستان جس کو تاجدار مدینہ حضرت محمد ﷺ نے قواریر (آبگینے) کہہ کر محترم بنا دیا!
جس کے لیے اس محفوظ اور مامون دور کو سچا کر دکھایا کہ وہ تنہا صنعاء سے حضر موت تک سونا اچھالتے ہوئے سفر کرنے لگی؛ لیکن کوئی شر پسند نگاہ اس پر اٹھائی نہ گئی!
ضرورت اس بات کی ہے کہ عصر حاضر کی خواتین اپنے اس رتبے اور مقام سے آگاہ ہوکر آگے آئیں اور نبوی رہنمائی کے ذریعے پاکیزہ قدروں پر اس معاشرہ کی تعمیر کریں۔
تری حیات ہے کردار رابعہ بصری
ترے فسانے کا موضوع ہے عصمت مریم
نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو
کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم
وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل
جہاں ہے عائشہ و فاطمہ کے نقش قدم