از قلم: ذاکر حسین ندوی
سی پی ایس انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی
انسانی معاشرہ اس وقت ترقی، استحکام اور خوش حالی حاصل کرتا ہے جب اس کی بنیاد عدل، اخلاق، قانون کی پاسداری اور باہمی امن پر قائم ہو۔ تاریخِ انسانی میں رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ مدنی ریاستی نظام کو ایک مثالی اور کامیاب سماجی نظام کی حیثیت حاصل ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں مذہبی، سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کے تمام شعبوں کو منظم اصولوں کے تحت استوار کیا گیا۔ مدنی ریاست نہ صرف اپنے زمانے کے لیے؛ بلکہ ہر دور کے لیے ایک قابلِ عمل نمونہ ہے۔ عصرِ حاضر میں جب دنیا اخلاقی بحران، سماجی انتشار اور قانون شکنی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، یہ پاکیزہ نظام ان مشکلات کے حل کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
معاشرتی اصلاح:
رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا بنیادی مقصد انسان اور معاشرے کی ہمہ جہت اصلاح تھا۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ نے عقائد کی پختگی پر توجہ دی، جبکہ مدینہ منورہ میں ایک صالح اور منظم معاشرے کی تشکیل کا عملی نمونہ پیش کیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ‘‘ (النحل: ۹۰)
یعنی: بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم کرکے نسلی، قبائلی اور معاشی تفریق کی جڑیں کاٹ دیں۔ اس انقلابی اقدام نے معاشرتی ہم آہنگی اور اخوت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ میں ناپید ہے۔ اسی طرح خواتین، یتیموں، مسکینوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کو یقینی بنایا گیا، جس سے معاشرے میں عدل اور مساوات کو فروغ ملا۔
عصرِ حاضر میں معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا سماج طبقاتی تقسیم، تعصب اور نفرت سے بلند ہو کر عدل، مساوات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو اپنائے۔ نبوی تعلیمات ایک عادل، متوازن اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے آج بھی نسخۂ کیمیا ہے۔
قانون کی بالادستی:
مدنی ریاستی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت قانون کی غیر مشروط بالادستی تھی۔ مدینہ منورہ میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں تھا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی بااثر خاندان یا قبیلے سے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح کرتے ہوئے فرمایا:
’’لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها‘‘ (صحیح البخاری: ۶۷۸۸)
یعنی: اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔
اسی سنہرے اصول کی بنیاد پر مدینہ میں ایسا نظام قائم کیا گیا جس میں حاکم و محکوم قانون کے سامنے برابر تھے۔ موجودہ دور میں بدعنوانی، اقربا پروری، وی آئی پی (VIP) کلچر جیسے طبقات کا وجود بڑے مسائل ہیں۔ مدنی ریاستی نظام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ریاست کی مضبوطی اور معاشرے کے استحکام کے لیے قانون کا یکساں نفاذ ناگزیر ہے۔
میثاقِ مدینہ اور عہد کی پاسداری:
مدینہ میں اجتماعی نظم و نسق کو مستحکم بنانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے نام سے ایک تاریخی دستاویز مرتب فرمائی، جس میں مسلمانوں اور یہودی قبائل کے باہمی حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا۔ اس معاہدے نے مختلف قبائل اور مذاہب کے درمیان تعلقات کو ایک منظم قانونی بنیاد فراہم کی۔ اس کے تحت غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی اور ان کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ مدینہ پر حملے کی صورت میں تمام فریق مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ اور باہمی اختلافات کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد ہوگا۔ یہ دستور تاریخِ انسانی کا پہلا تحریری آئین کہلاتا ہے جس نے امن اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد رکھی۔
(سیرت ابن ہشام، ج:۱، ص: ۵۰۲-۵۰۴)
عہد کی پاسداری کا یہی جذبہ خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی معاشرے کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں جب ایرانی سپہ سالار ہرمزان کو قیدی بنا کر لایا گیا۔ تو اس نے جان کے خوف سے پانی مانگا اور کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میں پانی پینے سے پہلے ہی قتل کر دیا جاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’جب تک تم پانی نہ پی لو، تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،‘‘ ہرمزان نے چالاکی سے پانی زمین پر گرا دیا تاکہ امان حاصل کر سکے۔ حضرت عمرؓ نے اس کے اس حیلے پر کارروائی کرنی چاہی، تو حضرت انس بن مالک اور دیگر صحابہؓ نے یاد دلایا کہ آپ زبان دے چکے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے لفظوں کی پاسداری کی اور اسے آزاد کر دیا؛ اس اعلیٰ ظرفی سے متاثر ہو کر ہرمزان نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔(تاریخ الطبری، جلد:۴، ص:۸۸)
اخلاقی تربیت:
اخلاقی تربیت مدنی ریاستی نظام کی روح تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کے مقصد کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
’’إنما بعثت لأتمم صالح الأخلاق‘‘ (مسند احمد: ۸۹۵۲)
یعنی: میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
مدنی نظام میں صرف قوانین ہی نہیں بنائے گئے؛ بلکہ افراد کی باطنی اور اخلاقی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے ذریعے سچائی، امانت داری، دیانت داری، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک جیسی صفات کو معاشرے کے رگ و پے میں اتار دیا۔ آپ ﷺ خود اخلاقِ حسنہ کا عملی نمونہ تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم گواہی دیتا ہے:
’’وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ‘‘ (القلم: ۴)
یعنی: اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے مرتبے پر فائز ہیں۔
عصرِ حاضر میں اخلاقی زوال ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ جھوٹ، خیانت، دھوکہ دہی اور خود غرضی نے سماجی روابط کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں نبوی اخلاقی تعلیمات کو تعلیمی اور سماجی سطح پر فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ ایک ذمہ دار اور باکردار معاشرہ تشکیل پا سکے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مدنی ریاست عدل، قانون کی بالادستی، اخلاق، باہمی تعاون اور انسانی احترام پر قائم ایک پُر امن سماجی نظام تھا۔ آج جب دنیا مختلف سماجی، اخلاقی اور سیاسی بحرانوں کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے، تو مدنی ریاست کے یہی آفاقی اصول ایک منصفانہ، مستحکم اور مثالی معاشرے کی بازیافت کے لیے واحد راستہ ہیں۔