از قلم: مفتی محمد قاسم القاسمی
ڈائریکٹر: معہد العلم للدراسات الاسلامیہ نئی دہلی
ہجرت مدینہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے، جس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی؛ بلکہ ایک منتشر اور متفرق معاشرے کو اتحاد واخوت کی ایسی لڑی میں پرو دیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ اور اسوۂ عمل ہے۔ اسی سلسلے میں ’’مواخاتِ مدینہ‘‘ کا عظیم اقدام ایک بے مثال سماجی اور اخلاقی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی نظیر معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔
مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین دین مبین کی سربلندی کی خاطر اپنا گھر بار، مال واسباب، اعزاء واقرباء اور اہل و عیال سب کچھ چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے تھے۔ زندگی کے اس نازک مرحلے پر انصارِ مدینہ کا ان کے ساتھ والہانہ، مخلصانہ اور اپنائیت بھرا سلوک واقعی لائق تقلید اور قابل اتباع ہے۔ خصوصًا آج کے پُرفتن اور نازک دور میں یہ واقعہ پوری ملتِ اسلامیہ، بالخصوص وطن عزیز کے مسلمانوں کے لیے نہایت سبق آموز ہے۔
چنانچہ انصار مدینہ نے نہ صرف مہاجرین کا پرتپاک خیر مقدم کیا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد و ایماء پر ان کے ساتھ باقاعدہ رشتۂ اخوت قائم کیا۔ خورد و نوش، تجارت و زراعت یہاں تک کہ نجی معاملات میں بھی انہیں برابر کا شریک بنایا اور ان کے زخمی دلوں پر اخوت وہمدردی، لطف وعنایت اور بھائی چارگی کا ایسا مرہم رکھا جس سے ان کے غم وآلام میں بڑی حد تک کمی آگئی اور مہاجرین و انصار باہم شیر وشکر ہوگئے۔ یہ تعلق محض رسمی اور وقتی نہ تھا؛ بلکہ اس کی بنیاد اخوتِ ایمانی، اتباعِ رسول ﷺ، انسانی ہمدردی اور دینِ اسلام پر مخلصانہ عمل کے جذبے پر قائم تھی۔
انصار مدینہ نے مہاجرین کو صرف زبانی تسلی دینے پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ مادی ومعاشی اعتبار سے بھی ان کی بھرپور مدد کی اور انہیں خود کفیل بنانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کی۔ چنانچہ حضرت سعد بن ربیع نے اپنے مہاجر بھائی حضرت عبدالرحمن بن عوف کو اپنا نصف مال پیش کردیا۔ اسی طرح انصار نے مہاجرین کے لیے اپنی زمینوں، کاروباروں اور تجارتی و زرعی معاملات میں شراکت کے دروازے کھول دیے۔ یہ ایثار وقربانی اور اخوت و ہمدردی کی ایسی عظیم مثال تھی، جس نے ایک بے سر وسامان طبقے کو معاشی طور پر مستحکم اور باوقار بنا دیا۔
مواخاتِ مدینہ کی بنیاد ایمان، اخلاص اور رضائے الٰہی پر تھی۔ اس میں رنگ ونسل، زبان، قومیت یا قبیلہ کوئی معیار نہ تھا؛ بلکہ تقویٰ، انسانیت اور اخوت اصل بنیاد تھی۔ حضور اکرم ﷺ کی مثالی تربیت، قبائلی وخاندانی عصبیت سے اجتناب کی مسلسل تلقین، اور صحابۂ کرام کے جذبۂ اتباع نے اس پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ چنانچہ مہاجرین وانصار کے درمیان یہ رشتۂ مودت ومحبت اس قدر حسین اور دل آویز تھا کہ خود رب کائنات نے اس کی مدح سرائی فرمائی اور اسے قرآن کریم میں ذکر کرکے جاودانی عطا کی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں؛ گرچہ خود ضرورت مند ہوں‘‘ (الحشر: ۹)
جدید معاشرتی انتشار کا حل:
آج امت مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے رنگ و نسل، علاقائیت، برادری، لسانیت اور فرقہ واریت جیسی عصبیتوں کو دوبارہ زندہ کرلیا ہے، حالانکہ حضور اکرم ﷺ نے دین کے نام پر اتحاد و یگانگت کی سنہری تعلیم دی تھی۔ تعلیم محمدی ﷺکی فراموشی کے نتیجے میں ہی آج ہمارا معاشرہ انتشار، پستی، نفرت اور بے چینی کا شکار ہے، خود غرضی، مادہ پرستی اور انفرادیت پسندی نے انسان کو انسان سے دور کردیا ہے۔ ایسے حالات میں مواخاتِ مدینہ کا عظیم تصور ہمارے لیے نہایت مؤثر، سبق آموز اور قابل عمل نمونہ ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی معاشرتی زندگی میں ایثار، ہمدردی، خیر خواہی اور باہمی تعاون کو فروغ دیں، نفرت وعداوت کا خاتمہ کریں، امیر وغریب کے درمیان مصنوعی تفریق کو مٹائیں، غرباء ومساکین اور ضرورت مندوں کی کفالت کا اہتمام کریں، اور اخوت وبھائی چارے کو صرف نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کریں۔
مختصر یہ کہ مہاجرین و انصار کا باہمی تعلقِ غم خواری وغمگساری محض ایک تاریخی داستان نہیں؛ بلکہ ایک زندہ وتابندہ اور قابل عمل نظام حیات ہے، جو ہر دور کے انسانوں کو اتحاد، محبت اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے۔ اگر آج کا معاشرہ اس نبوی اصول کو حقیقی معنوں میں اپنالے تو نفرت محبت میں بدل جائے گی۔ انتشار اتحاد میں تبدیل ہو جائے گا اور مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت، وقار اور دینی شناخت دوبارہ حاصل کر لیں گے۔
اللہ رب العزت ہم سب کو امن وآشتی اور اتفاق واتحاد کو فروغ دینے والا بنائے اور امت مسلمہ کو جسد واحد کی طرح رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین