از قلم : محمد اسجد قاسمی
قوت کا مفہوم اور اس کی وسعت:
جدید ترین ٹیکنالوجی (Advanced Technology) موجودہ دور میں قوموں اور اداروں کی بقا، ترقی اور اثر انگیزی کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ نہ صرف معاشی و سماجی ترقی کا اہم ذریعہ ہے؛ بلکہ دفاع، تحفظ اور استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے آج کے دور میں ٹیکنالوجی قوت کے مؤثر ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔ اسلام بھی مسلمانوں کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق ایسے وسائل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو انہیں مضبوط اور باوقار بنائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَعِدُّوْا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (الانفال: ۶۰)
یعنی: ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہوسکے طاقت کی تیاری رکھو!
امام طبریؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: مسلمانوں کو اپنی استطاعت کے مطابق ہر وہ سامان اور وسائل تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جو دشمن کے مقابلے میں قوت کا ذریعہ بن سکیں۔ (تفسیر طبری، ج: ۱۱، ص: ۲۶۶)
رسول اللہ ﷺ نے اس آیت میں مذکور ’’قوة‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا! إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ (صحیح مسلم: ۱۹۱۷)
یعنی: سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔
اس فرمان کا مقصد قوت کو صرف تیر اندازی تک محدود کرنا نہیں؛ بلکہ اس دور میں جنگی اعتبار سے سب سے مؤثر ہتھیار کی نشاندہی کرنا تھا۔ چنانچہ علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں:
مِنْ كُلِّ مَا يُتَقَوَّى بِهٖ فِي الْحَرْبِ كَائِنًا مَا كَانَ (روح المعانی، ج:۱۰، ص:۱۶۶)
یعنی: قوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے جنگ میں طاقت حاصل ہو،
خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو۔
مزید یہ کہ آیتِ کریمہ میں لفظ ’’قُوَّةٍ‘‘ نکرہ استعمال ہوا ہے، اور نکرہ عموم کا فائدہ دیتا ہے؛ اس لیے ’’قُوَّةٍ‘‘ سے مراد ہر وہ طاقت، صلاحیت اور وسیلہ ہوگا جس کے ذریعے دشمن کے مقابلے میں دفاع، تحفظ اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:
’’إِلَّا أَنَّهٗ ﷺ خَصَّ الرَّمْيَ بِالذِّكْرِ لِأَنَّهٗ أَقْوٰى مَا يُتَقَوَّى بِهٖ ‘‘
(روح المعانی، ج:۱۰، ص:۱۶۶)
یعنی: نبی کریم ﷺ نے تیر اندازی کا خصوصی ذکر اس لیے فرمایا کہ اس زمانے میں وہ دفاعی اور جنگی قوت کا سب سے مؤثر ذریعہ تھی۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے میں بندوقیں اور توپیں تیر اندازی کے قائم مقام ہیں۔ (بیان القرآن، ج:۲، ص:۱۰۳)
بیان القرآن کی پہلی بار اشاعت 1908ء میں دہلی سے ہوئی۔ اس دور میں عسکری قوت کے نمایاں مظاہر بندوقیں اور توپیں تھیں؛ اس لیے حضرتؒ نے ’’قُوَّةٍ‘‘ کے مصداق کو بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر فرمایا۔ تاہم ان کا مقصد ’’قُوَّةٍ‘‘ کو انہی وسائل تک محدود کرنا نہیں تھا؛ بلکہ اپنے زمانے کے معروف اور مؤثر ذرائعِ دفاع کی مثال دینا تھا۔ موجودہ دور میں جدید اسلحہ، دفاعی صنعت، سائبر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، ذرائعِ ابلاغ، تعلیمی نظام، انتظامی مہارت اور معاشی استحکام قومی و بین الاقوامی سطح پر قوت اور اثر و رسوخ کے اہم ذرائع بن چکے ہیں؛ اس لیے بعید نہیں کہ عصرِ حاضر کا کوئی مجدِّد اس آیتِ کریمہ میں مذکور ’’قُوَّةٍ‘‘ کے مصداق پر گفتگو کرتے ہوئے ان ذرائع کو بھی شاملِ بحث سمجھے۔
مذکورہ بحث سے واضح ہوا کہ قرآنِ کریم میں وارد لفظ ’’قُوَّةٍ‘‘ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے اور ہر اس ذریعہ، صلاحیت اور وسیلے کو شامل ہے جو کسی دور میں تحفظ، دفاع، استحکام اور غلبۂ مفادات کا سبب بن سکے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں حکمتِ عملی اور جدید ذرائع کا استعمال:
چنانچہ جب ہم سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ اور برصغیر کے علماء کی جدوجہد کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس قرآنی ہدایت کے متعدد عملی نمونے سامنے آتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے ہر دور میں اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق دستیاب اور مؤثر ذرائع کو اختیار کیا اور انہیں اپنی حفاظت، بقا اور دعوتِ دین کے لیے استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے زمانے میں ایک مؤثر سیاسی، عسکری اور علمی قوت بنے۔
آپ ﷺ کے سفرِ ہجرت میں ہمیں اس کا نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا فیصلہ کیا تو آپ ﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ حفاظتی تدابیر اختیار فرمائیں۔ اہم تدابیر میں حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر سلانا، رات کے وقت خفیہ طور پر روانگی، عمومی راستے کے بجائے غیر معروف راستہ اختیار کرنا، غارِ ثور میں قیام، ماہر راستہ شناس حضرت عبداللہ بن اریقط ؓکی خدمات حاصل کرنا، اطلاعات پہنچانے کے لیے حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ کو مقرر کرنا اور کھانے پینے کی فراہمی کے لیے حضرت اسماءؓ کی خدمات لینا شامل ہے۔
یہ محض انتظامی اقدامات نہیں تھے؛ بلکہ ایک عملی قوت کی صورت اختیار کر گئے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ تدابیر ایک ایسی مؤثر قوت بن کر سامنے آئیں جس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ دشمن کے ضرر سے محفوظ رہتے ہوئے کامیابی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
اسی طرح غزوۂ خندق بھی اس کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ چوں کہ عرب میں خندق کھودنے کا طریقہ رائج نہیں تھا۔ یہ فارس (ایران) کی دفاعی حکمتِ عملی تھی۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے یہ مشورہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فوراً قبول فرمایا۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے۔ (سیرت ابن اسحق، ج: ۲، ص:۵۴۳)
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ عجمی طریقہ ہے یا عربوں کی روایت کے خلاف ہے؛ چونکہ اس میں مسلمانوں کی حفاظت تھی؛ اس لیے اسے اختیار کیا گیا۔ یہ واقعہ اسلامی فکر کا ایک عظیم اصول متعین کرتا ہے کہ مفید اور جائز ذرائع خواہ کسی قوم سے آئیں، اگر وہ امت کے تحفظ اور خیر کا سبب ہوں تو ان کا اختیار کرنا درست ہے۔
تاریخِ اسلام اور جدید سائنسی ترقی:
بعد کے ادوار میں بھی مسلمانوں نے اسی اصول پر عمل کیا۔ عباسی دور میں اطلاعاتی نظام، ڈاک کے ادارے اور ریاستی نگرانی کے مؤثر طریقے موجود تھے، جو اپنے زمانے کے جدید ترین انتظامی وسائل اور ذرائع میں شمار ہوتے تھے۔
اندلس میں مسلمانوں نے قلعہ سازی، آب رسانی، نگرانی اور عسکری انجینئرنگ کے میدان میں نمایاں ترقی کی۔ ان کی تعمیرات اور دفاعی انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانے کے سائنسی اور فنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
خلافتِ عثمانیہ کے دور میں یہ رجحان مزید نمایاں صورت میں سامنے آتا ہے؛ چنانچہ قسطنطنیہ کی فتح میں عظیم توپوں کا استعمال اس کی ایک تاریخی مثال ہے۔ اس معرکے میں سلطان محمد فاتح نے انجینئرنگ، بحری حکمتِ عملی اور جدید عسکری آلات سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے والا شہر سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں آ گیا۔
جدید ذرائع سے غفلت کے نقصانات:
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب قومیں نئے ذرائع سے غفلت برتتی ہیں تو وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مملوک سلطنت کے آخری دور میں عثمانیوں نے جدید توپ خانے اور بارودی ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دی؛ جبکہ مملوکوں کی عسکری قوت بڑی حد تک پرانے نظام پر قائم رہی۔ جس کے نتیجے میں 1517ء میں مملوکوں کو عثمانیوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور تقریباً تین صدیوں پر محیط اس عظیم الشان مملوک سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔
برصغیر کی تاریخ میں بابر کی فتوحات بھی جدید جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہم مثال ہیں۔ پانی پت کی پہلی جنگ میں بابر نے عثمانی طرز کے توپ خانے اور بارودی ہتھیار استعمال کیے، جبکہ ہندوستانی لشکر زیادہ تر روایتی جنگی انداز پر قائم تھا۔
بابر نے توپ خانے، بارودی اسلحے، منظم جنگی صف بندی اور متحرک دفاعی حکمتِ عملی کو اختیار کیا، جس کی وجہ سے نسبتاً کم فوج کے باوجود اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ تاریخ کا ایک اہم سبق ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت عسکری برتری پیدا کرتی ہے۔
برصغیر کے علما اور حفاظتی تدابیر:
ہندوستان میں انگریزوں کے اقتدار کے بعد علماءِ اسلام نے صرف وعظ و نصیحت پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ سیاسی، فکری اور خفیہ سطح پر بھی مختلف تدابیر اختیار کیں۔ چنانچہ 1857ء کے بعد جب انگریز علما اور مجاہدین کی نگرانی کر رہے تھے، اس دور میں مختلف مقامات پر خفیہ راستے، محفوظ ٹھکانے اور زیرِ زمین سرنگیں استعمال کی جاتی تھیں؛ تاکہ علما اور مجاہدین محفوظ رہ سکیں۔
چند روز قبل راقم کو کیرانہ جانے کا اتفاق ہوا، جہاں ایک قدیم سرنگ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس سرنگ کی تاریخ اور اصل مقصد کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں؛ تاہم مقامی روایات اسے ان ادوار سے جوڑتی ہیں جب علما، مجاہدین اور آزادی کے متوالے انگریز حکومت کی نگرانی سے بچنے کے لیے مختلف خفیہ ذرائع اختیار کرتے تھے۔ اگرچہ اس روایت کی تاریخی حیثیت مزید تحقیق کی متقاضی ہے؛ تاہم یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مختلف ادوار میں اہلِ حق نے اپنی حفاظت اور نقل و حرکت کے لیے حالات کے مطابق مناسب تدابیر اختیار کیں۔
اسی طرح تحریکِ ریشمی رومال بھی برصغیر کی آزادی کی ایک اہم خفیہ تحریک تھی جس کی قیادت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے رفقاء نے دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کی تھی۔
عصرِ حاضر کے تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں:
آج دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں؛ بلکہ معلومات، میڈیا، معیشت اور سائبرستان میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں مسلمانوں کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
جدید سائنسی علوم کا حصول
سائبر سکیورٹی میں اعلی مہارت
میڈیا اور اطلاعاتی میدان میں مضبوطی
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت۔
تحقیق، تعلیم اور ابلاغ کے جدید ذرائع کو مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لانا۔
فکری و تہذیبی حفاظت کے لیے جدید ذرائع کا استعمال۔
اگر امتِ مسلمہ ان میدانوں سے دور رہی تو وہ علمی، فکری اور دفاعی اعتبار سے دوسروں کی محتاج بن جائے گی۔
تاریخِ اسلام، سیرتِ نبوی ﷺ اور اکابرِ امت کی جدوجہد کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز محض جذبۂ ایمانی میں نہیں؛ بلکہ ایمان کے ساتھ حکمت، تدبیر، منصوبہ بندی اور ہر دور کے جائز و مؤثر ذرائع کے صحیح استعمال میں پوشیدہ ہے۔