از قلم: محمد اسجد قاسمی
بعض مخصوص مکھیاں جنہیں ’’شہد کی مکھیاں‘‘ کہا جاتا ہے، وہ پھلوں، پھولوں اور دیگر نباتات سے رس چوس کر اپنے چھتے میں جمع کرتی ہیں جو شکر کے قوام کے مانند شیریں مادے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جسے ’’شہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ مختلف پھلوں، پھولوں اور دیگر نباتات سے رس حاصل کرنے کی وجہ سے شہد میں اُن کی خوشبُو، ذائقہ اور دیگر خصوصیات بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ طبِ یونانی کے مطابق شہد کا مزاج گرم و خشک شمار کیا جاتا ہے۔
(مخزن المفردات، ص:۳۸۹)
علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ شہد کی مکھی اپنے پروں سے موم بناتی ہے۔ اپنے منہ سے شہد نکالتی ہے۔ اپنے پچھلے حصے سے بچے پیدا کرتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، ج:۳، ص:۱۵۶)
شہد کے فوائد بیان کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی ؒ، موفق بغدادی اور دیگر اطباء کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :
شہد رگوں اور آنتوں میں موجود میل کچیل کو صاف کرتا ہے، فضلات کو خارج کرتا ہے، معدے کو صاف کرتا ہے اور اسے معتدل طور پر گرم رکھتا ہے۔ یہ رگوں کے دہانوں کو کھولتا ہے، معدہ، جگر، گردوں، مثانے اور دیگر اعضاء کو قوت بخشتا ہے۔ اس میں رطوبتوں کو تحلیل کرنے، غذا پہنچانے اور بدن کو تقویت دینے کی صلاحیت ہے۔ جگر اور سینے کو صاف کرتا ہے، پیشاب آور ہے، بلغم سے پیدا ہونے والی کھانسی کے لیے مفید ہے اور بلغمی مزاج اور سرد مزاج افراد کو نفع پہنچاتا ہے۔ (فتح الباری، ج:۱۰، ص:۱۷۳)
قرآن کریم میں شہد کا ذکر:
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ (النحل: ۶۹)
یعنی: اُن کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے، جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔
اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔
علامہ ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے بعض اطباء کا قول نقل کیا ہے کہ:
شہد چونکہ گرم مزاج رکھتا ہے، اور طبِ قدیم کے اصول کے مطابق اکثر امراض کا علاج ان کے مزاج کے مخالف اشیاء سے کیا جاتا ہے، اس لیے شہد سے خصوصاً سرد مزاج امراض میں فائدہ متوقع ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قول فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے؛ کیوں کہ لفظ شِفَاءٌ نکرہ واقع ہوا ہے۔ اگر یہاں الشِّفَاءُ معرفہ (الف لام کے ساتھ) استعمال کیا جاتا، تب یہ کہا جا سکتا تھا کہ شہد میں تمام بیماریوں کے لئے شفاء ہے۔
(تفسیر ابن کثیر، ج:۳، ص:۱۵۶)
حدیث نبوی میں شہد کا ذکر:
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہد پلاؤ۔ وہ شخص گیا اور شہد پلایا، واپس آکر پھر وہی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے پھر شہد پلانے کا حکم فرمایا؛ وہ شخص تیسری مرتبہ وہی شکایت لے کر آیا، تو پھر رسول اللہ ﷺ نے شہد پلانے کو کہا، وہ پھر آیا اور عرض کیا کہ اتنی بار شہد پلانے کے باوجود آرام نہیں ہوا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: (قرآن میں) اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے (کہ شہد میں شفا ہے) اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ چنانچہ وہ شخص پھر واپس گیا اور شہد پلایا، تو اس کا بھائی اچھا ہو گیا۔ (صحیح بخاری: ۵۶۸۴)
حدیث کی وضاحت:
اسہال (Loose motion) کی بعض اقسام ایسی ہوتی ہیں جو بدہضمی (تُخمہ) سے پیدا ہوتی ہیں۔ قدیم اطباء کے نزدیک اس قسم کے اسہال (Loose motion) کا علاج یہ ہے کہ اسے طبعی طور پر خارج ہونے دیا جائے اور طبیعت کو اپنا کام کرنے دیا جائے؛ کیونکہ بعض اوقات اسہال جسم کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح دوا کی مقدار بیماری کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر دوا کم ہو تو بیماری پوری طرح ختم نہیں ہوتی اور اگر ضرورت سے زیادہ ہو تو جسم کی قوت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس شخص کو بدہضمی ہو گئی تھی اور اس کا پیٹ اسی وجہ سے خراب ہوا تھا؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے شہد پینے کا حکم دیا تاکہ شہد معدہ اور آنتوں میں جمع ہونے والے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرے۔
چنانچہ شفا میں تاخیر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ شہد مؤثر نہیں ہو رہا تھا؛ بلکہ اصل سبب یہ تھا کہ مریض کے پیٹ میں فاسد مادہ بہت زیادہ تھا۔ جب شہد بتدریج مناسب مقدار میں استعمال کیا گیا، تو اس نے فاسد مادہ کو خارج کر دیا، جس کے نتیجے میں مریض کو شفا حاصل ہو گئی۔
یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ علاج میں دوا کی مطلوبہ مقدار کا مکمل ہونا ضروری ہے۔ اسی حکمت کے پیشِ نظر رسول اللہ ﷺ نے ابتدا ہی میں زیادہ مقدار میں شہد پلانے کا حکم نہیں دیا؛ بلکہ متعدد بار شہد پلانے کی ہدایت فرمائی، یہاں تک کہ فاسد مادہ پوری طرح خارج ہو گیا۔ جب تک مطلوبہ مقدار پوری نہ ہوئی، مرض بھی ختم نہ ہوا اور جب مطلوبہ مقدار مکمل ہو گئی تو مرض رفع ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد صدق اللہ وکذب بطن اخیک کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے؛ جبکہ بیماری کی شدت کی وجہ سے فوری افاقہ نہ ہونے کا سبب شہد کا بے اثر ہونا نہیں؛ بلکہ مریض کے جسم میں فاسد مادے کی کثرت ہے۔
(فتح الباری، ج:۱۰ ، ص:۲۱۰)