ہمارے نبی کا ننھا خادم

از قلم: محمد طاہر ندوی

استاذ جامعہ معین الدین چشتی اجمیر
جولائی تا ستمبر2026ء
ہمارے نبی کا ننھا خادم

پیارے بچو! کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے آقا پیارے رسول محمد ﷺ بچوں سے کتنا پیار کرتے تھے؟ ان کے ساتھ کتنی شفقت کا معاملہ فرماتے اور ان کی خوشی کا کس قدر خیال رکھتے تھے؟ آپ جب بچوں سے ملتے تو مسکراتے، انہیں سلام کرتے، ان کو گلے لگاتے اور گود میں اٹھا لیتے تھے۔ آج آپ کو ایسے ہی ایک خوش نصیب بچے کا واقعہ سناتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کے چہیتے تھے، ان کا نام ہے حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ۔

پیارے نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے مسلمانوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ آپ کی خدمت میں طرح طرح کے تحفے پیش کر رہے تھے اور آپ کی مہمان نوازی کا شرف حاصل کر رہے تھے۔

حضرت انس کی والدہ رُمیصاء (ام سلیم) بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں، ان کے ساتھ ان کا دس سال کا پیارا بچہ بھی ہوتا ہے، وہ عرض کرتی ہیں: اے اللہ کے رسول! ’’یہ میرا بیٹا انس ہے، یہ بہت سمجھدار ہے، میں آپ کی خدمت کرنے کے لیے اس کو پیش کرتی ہوں، لہذا آپ اسے قبول فرما لیجئے۔‘‘ پیارے رسول نے شفقت بھری نظروں سے بچے کو دیکھا، اپنے پاس بلایا، اپنا مبارک ہاتھ سر پر پھیرا اور ان کو اپنے خاندان کا حصہ بنا لیا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۱)

آپ کا یہ ننھا خادم آپ کے چھوٹے چھوٹے کام جیسے کہ وضو کا پانی رکھنا، آپ کے جوتے اٹھانا، آپ کا پیغام پہنچانا، بڑی خوش دلی سے کیا کرتا تھا اور آپ سے بہت محبت کرتا تھا۔

پیارے بچو! حضرت انس نے پورے دس سال آپؐ کی خدمت کی۔ کیا آپ کو معلوم ہے ان دس سالوں میں ہمارے نبی نے ان کے ساتھ کیسا سلوک فرمایا؟ خود حضرت انس کا بیان ہے کہ ’’میں نے دس سال آپ کی خدمت کی، اس طویل عرصے میں آپ نے نہ کبھی مجھے ڈانٹا اور نہ دوسرے گھر والوں کو ڈانٹنے دیا، نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام تم نے کیوں کیا؟ یا فلاں کام تم نے کیوں نہ کیا؟‘‘  (صحیح مسلم:۲۳۰۹)

آپ ﷺ حضرت انس کا بہت خیال فرماتے تھے، دعاؤں سے نوازتے اور پیار سے ان کو ’’میرے پیارے بیٹے‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ (صحیح مسلم: ۲۱۵۱)

پیارے بچو! دیکھا آپ نے ہمارے نبی کتنے اچھے اخلاق والے تھے، بچوں کے ساتھ کتنا پیارا سلوک کرتے تھے۔ ان پر اللہ تعالی کی کروڑوں رحمتیں ہوں۔

ہمیں بھی آپ ﷺ سے محبت کرنی چاہیے، اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے اور خوش دلی سے ان کی خدمت کرنی چاہیے۔

Scroll to Top