نبوی کاروباری زندگی کی اخلاقیات

از قلم:از: پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی ؒ

جولائی تا ستمبر2026ء
نبوی کاروباری زندگی کی اخلاقیات

تجارت برائے تبلیغ:

ہندوستان اور پاکستان میں بحیثیت قوم اور بحیثیت طبقہ، تبلیغ کاکا م تاجروں نے کیا ہے۔ ہندوستان کے مغربی حصہ ،کراچی سے مالابار، اور پھر سری لنکا، یہاں تک کہ چین تک عرب تاجر بعثت سے قبل بھی سے آتے رہے ہیں۔ ان تاجروں نے اپنی اپنی چھوٹی چھوٹی بستیاں بسا لی تھیں۔ انہوں نے مقامی راجاؤں سے مراعات حاصل کیں، ان کو تبلیغ کی۔ اور وہ ان کے کردار، تاجرانہ عمل اور اخلاق سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان لوگوں کو رہنے کے لئے جگہیں دیں، جس کی وجہ سے وہاں پوری کی پوری مسلم آبادیاں آباد ہوگئیں۔ آج بھی کیرالہ اور کوکن کے بہت سے علاقوں میں مسلم اکثریتی آبادیاں آباد ہیں۔ اور بہت سے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں، جیسا کہ گرو منڈل پوسٹ کی مثال ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے یہ سلسلہ شروع ہوا، اور تا دیر جاری رہا۔ اسی طرح حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے سے وہ شمالی ہندوستان میں آنے لگے تھے۔ اور اسی طرح پنجاب کے علاقے میں پھیل گئے تھے اور یہاں ہندوستان کی عرب فتح سے پہلے ہی بڑی بڑی آبادیاں قائم ہو چکی تھیں، اور ان تاجروں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے تھے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جس طرح مال کو دین کے پھیلانے کا ذریعہ بنایا، تجارت کو اختیار کیا۔ ہمارے لیے وہ کام اب بھی باقی ہے، جس پر ہمارے تاجروں کوبھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر میرے والد صاحب خود بڑے تاجر تھے اور تاجر طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے تجارت میں نئی نئی چیزیں اختیار کی تھیں۔ اور اس کی وجہ سے تجارت اور مال کا تصور جو انہوں نے قائم کیا اور جس طرح سے لوگوں سے تعلقات و روابط قائم کیے، اس سے ان کی ایسی ساکھ بنی کہ کسی کو پیسہ دینے، یا رسید دینے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی، اور مال ان کے ہاں پہنچ جاتا تھا۔ جسے وہ اس طرح سے خرچ کرتے تھے کہ مسلم اور غیر مسلم، سب لوگوں کی مدد بھی کرتے تھے۔ جبکہ ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی غیرمسلم چاہے، عیسائی ہو، ہندو ہو، یا کوئی دوسرا، یہ عجیب رویہ رکھتے ہیں کہ ہم اس کو سلام تک کرنے کے روادار نہیں ہوتے، حالانکہ رسولِ اکرم ﷺ ان سب کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔

تجارتی اطوار:

مکی دور کی چند مثالیں پیش کر رہاہوں؛ مکی دور میں ایک دو کے سوا، رسولِ اکرم ﷺ کے اکثر رشتہ دارمسلمان ہوگئے۔ عام خیالات کے مطابق حضرت ابوطالب تو ایمان نہ لائے، لیکن ان کی اہلیہ اور ان کا خاندان مسلمان ہوئے، دوسرے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ چھ برس تک مسلمان نہ ہوئے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ تو فتح مکہ تک اسلام نہیں لائے۔ لیکن اس کے باوجود ان سب کے ساتھ آپ ﷺ کا جوسلوک تھا، یعنی ان کے گھروں میں آنا جانا، ان کے تجارتی معاملات میں حصہ لینا، بچپن اور لڑکپن سے ان کے ساتھ سفر کرنا، ان کی مدد کرنا اور پھر ان سے تجارت کے گُر (Tricks) سیکھنا اور مختلف جگہوں پر جاکر وہاں کی منڈیوں کے حالات دیکھنا، ان سے فائدہ اٹھانا، وہاں کےاور لوگوں کے حالات سے واقف ہونا وغیرہ۔

چنانچہ بعد کی زندگی میں جب آپ ﷺ کے پاس یمن سے لوگ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ہندوستان سے آئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں حضور ہم تو یمن کے رہنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ہاں ہندوستان ا ور یمن کے لوگوں کے مزاج اور اخلاق میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح سے آپ ﷺ بحرین کے علاقے میں گئے۔ وہاں سے لوگ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس فلاں قبیلے سے آرہے ہو؟ ان لوگوں نے پوچھا آپ ﷺ کو کیسے پتا چلا؟ فرمایا کہ میں نے تمہارا سارا ملک دیکھا ہوا ہے، اور ہر جگہ جاتا رہا ہوں۔ بازاروں میں لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ تو تجارت میں اس قسم کے واقعات بڑے اہم ہوتے ہیں کہ اس سے آپ نئے تجربات سیکھتے ہیں۔ آج کے دور میں تو ظاہر بات ہے کہ کوئی معمولی تاجر بھی ہو تومختلف شہروں میں جاتا ہے، اور بڑا تاجر ہو تو مختلف ملکوں میں گئے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہوتا اور وہ ان سب کے تجربات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ اصل میں بنیادی چیز ہے کہ اگر ہم ان سے تجارت کے گُر (Tricks) نہیں سیکھیں گے اور ایسے طریقے اختیار نہیں کریں گے، تو ہم خود کیسے اچھے تاجر بنیں گے اور کیسے اپنے معاشرے میں تجارت کو فروغ دے سکیں گے؟

 

(جی سی ویمن یونیورسٹی، سیالکوٹ میں منعقدہ کانفرنس بعنوان ’’سیرتِ رسول ﷺ کی عصری معنویت اور عہدِ جدید کی تحدیات‘‘ میں ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی کے پیش کردہ خطبہ ’’نبوی کاروباری زندگی کی اخلاقیات‘‘ کی یہ تیسری قسط ہے۔)

انتخاب و پیشکش :- محمد افتخار الحسن خندہ سہارنپوری

ڈائریکٹر مکتبہ امام ابو الحسن علی الندوی

Scroll to Top