از قلم: محمد اسجد قاسمی
کبھی کبھی قوموں کی زندگی میں ایسے حالات پیش آتے ہیں جو اُن کی سمت، مستقبل اور تاریخ کا رُخ متعین کرتے ہیں۔ ایسے سنگین اور فیصلہ کُن حالات میں بروقت دور اندیشی کے ساتھ صحیح فیصلہ کرنا اور مستقبل کی تیاری کےلیے درست قدم اٹھانا نا گزیر ہوجاتا ہے۔
یوں تو رسول اللہ ﷺ کی مکمل حیاتِ طیبہ ہمارے لیے اسوہ ہے؛ تاہم غزوۂ تبوک کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بصیرت و دوراندیشی کے انتہائی اعلی درجے پر فائز تھے۔
غزوۂ تبوک: بصیرت اور دوراندیشی کا مظہر
شام کے نبطی سوداگر روغن زیتون بیچنے مدینہ آیا کرتے تھے۔ انھوں نے خبر دی کہ رومیوں نے ملک ِشام میں بہت بڑی فوج جمع کردی ہے۔ اور اس فوج میں رومیوں کے علاوہ قبائل لخم و جذام اور غسان کے تمام عرب بھی شامل ہیں۔ قرائن اس قدر قوی تھے کہ اس خبر کے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی؛ لہذا حضور اکرم ﷺ نے بھی فوج کی تیاری کا حکم دے دیا۔ (سیرت النبی ﷺ، علامہ شبلی، ج:۱، ص:۳۷۳)
تبوک میں باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی؛ البتہ اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کی بلند ہمتی اور پیش قدمی دیکھ کر سرحد کے قریب کے بعض حکام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ سے صلح و معاہدہ کیا اور جزیہ ادا کرنا منظور کر لیا۔
(سیرت ابن اسحاق مترجم، ج: ۲، ص: ۷۱۱)
دفاعی حکمتِ عملی اور پیش قدمی
تبوک میں رسول اللہ ﷺ کی پیش قدمی سے یہ اصول بھی سامنے آتا ہے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی محض انتظار اور پسپائی کا نام نہیں؛ بلکہ بسا اوقات پیش قدمی بھی دفاع کا مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے دشمن کے مدینہ پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے اسلامی ریاست کی سرحدوں پر پیش قدمی کرنے کا فیصلہ کیا؛ تاکہ دشمن کو سرحد کے باہر ہی روک کر مرعوب کیا جا سکے۔
۱۸۵۷ء سے آزادی تک: اکابر کی بصیرت اور قربانیاں
اسی طرح ملک ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد حضرت نانوتویؒ، ان کے رفقاء اور دیگر عظیم شخصیات نے ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو اچھی طرح بھانپ لیا تھا، جس کے نتیجے میں مسلم اداروں اور تنظیموں کا قیام عمل میں آیا، جو اس وقت کی اہم ضرورت تھی۔
آزادی سے قبل ملک کو آزادی دلانے کے لیے قربانیوں کی ضرورت تھی؛ چنانچہ ہمارے اکابر نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اس ملک کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔
آزادی کے بعد بدلتے تقاضے اور عصری چیلنجز
آزادی کے بعد ضرورت کی نوعیت بدل گئی، اب ملک کو ایسے باصلاحیت، باکردار اور ذمہ دار افراد کی ضرورت تھی جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاکر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، عدلیہ میں بیٹھ کر عدل و انصاف کے فریضے کو انجام دیں، محکمۂ پولیس میں شامل ہوکر مظلوموں اور بے کسوں کی داد رسی کریں، فوج میں جاکر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کریں، تعلیم و تحقیق کے میدان میں علمی خدمات انجام دیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں نئی راہیں تلاش کریں، صنعت و تجارت اور زراعت و معیشت کو فروغ دیں، طب و صحت کے شعبے میں انسانیت کی خدمت کریں، قانون و انتظامیہ کے میدان میں دیانت و امانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، صحافت و ابلاغ کے ذریعے معاشرے میں مثبت شعور بیدار کریں، سماجی اور رفاہی شعبوں میں ضرورت مندوں کی دست گیری کریں اور اپنی صلاحیتوں، علم و ہنر، محنت و تجربے کو ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر دیں۔
آج کی ضرورت: دوراندیشی اور پیشگی تیاری
آزادیٔ ہند کے بعد مذہبی امور پر محنت اور توجہ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں سیاسی شعور، اجتماعی بیداری اور بدلتے ہوئے حالات کا ادراک بھی ضروری تھا۔
تاہم، آزادی کے بعد ہماری اجتماعی ترجیحات میں اس نوع کی طویل المدت منصوبہ بندی اور دوراندیشی کو وہ مرکزی حیثیت حاصل نہ ہو سکی جس کی بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت تھی۔ آج مساجد و مدارس، خانقاہوں اور درگاہوں سے متعلق پیش آنے والے مختلف واقعات اس صورتِ حال پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اگر حالات کا صحیح رخ ابتدا ہی سے متعین کیا گیا ہوتا تو آج وطنِ عزیز میں کسی کو بھی انصاف کے لیے یوں بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکمت عملی اور دور اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ آنے والے حالات اور خطرات کا بروقت ادراک کیا جائے اور اُن کے تدارک کے لیے پیشگی اقدامات کئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں صرف غزوۂ تبوک ہی نہیں؛ بلکہ دیگر مواقع پر بھی اسی پیغمبرانہ حکمت عملی اور فعال پیش قدمی کے تابندہ نقوش نظر آتے ہیں۔