از قلم: مفتی عبد القادر قاسمی
ناظم مکتب دینیات مسجد بلال، اوکھلا، نئی دہلی
انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے لمحات کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ دنیا کے شور سے الگ ہوکر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہو، اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرے اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرے۔ غارِ حِراء کی خلوت ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموشی کے درمیان وحی کی صدا بلند ہوئی اور ایک عظیم دعوتی و تربیتی سفر کا آغاز ہوا۔ سوال یہ ہے کہ حِراء کی اس خلوت میں آج کے انسان کے لیے کیا پیغام پوشیدہ ہے؟
حِرا کی خلوت اور عصرِ حاضر کا شور
پہلے انسان کے ارد گرد بازاروں، میلوں اور مجلسوں کا شور تھا؛ مگر آج اسکرینوں، نوٹیفکیشنز، پیغامات، ویڈیوز، خبروں اور سوشل میڈیا نے اس کی جگہ لے لی ہے۔بعض اوقات انسان جسمانی طور پر تنہا ہوتا ہے؛ مگر ذہنی طور پر سینکڑوں لوگوں سے جڑا ہوتا ہے؛ البتہ کبھی جسمانی قربت کے باوجود بھی قلبی توجہ مفقود ہوتی ہے؛ مثلاً: گھر میں والدین اور بچے ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں، مگر سب اپنے اپنے فون میں مشغول ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی قربت تو موجود ہوتی ہے؛ لیکن قلبی توجہ موجود نہیں ہوتی۔
حِرا کی خلوت ہمیں توجہ اور یکسوئی کا احساس دلاتی ہے۔ نیز یہ کہ انسان کو وقتاً فوقتاً ہر طرح کے شور اور ہنگامے سے الگ ہوکر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہونا چاہیے؛ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہمیشہ موبائل اور ٹیکنالوجی سے کنارہ کش ہو جائے؛ بلکہ عملی طور پر اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے حدود مقرر کرے؛ مثلاً: صبح بیدار ہونے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے تک فون سے اجتناب کیا جائے۔ نماز کے وقت موبائل فون کو خود سے دور رکھا جائے۔ کھانے کے وقت فون سے اجتناب کیا جائے۔ سونے سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے سوشل میڈیا کا استعمال بند کردیا جائے۔
اسی طرح مطالعہ، عبادت اور اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو کے لیے بھی روزانہ کچھ وقت ’’فون فری‘‘ (Phone-free) رکھا جائے؛ یعنی اس دوران موبائل فون کو ایک طرف رکھ کر اس کے استعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے؛ تاکہ انسان اسکرین کی مصروفیت سے آزاد ہوکر پوری یکسوئی کے ساتھ مطالعے، عبادت اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف متوجہ ہوسکے۔
اختیاری خلوت اور احساسِ تنہائی
یہاں یہ فرق سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ Solitude (اختیاری خلوت) اور Loneliness (احساسِ تنہائی) ایک چیز نہیں ہے۔ اختیاری خلوت انسان کو سکون، خود شناسی اور خود احتسابی کا موقع دیتی ہے؛ جبکہ احساسِ تنہائی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی خود کو اکیلا اور بے سہارا محسوس کرے۔
خلوت کو انسان اپنی ضرورت اور مقصد کے تحت اختیار کرتا ہے؛ جبکہ تنہائی کا احساس بسا اوقات انسان پر طاری ہوجاتا ہے۔ خلوت میں انسان خاموشی کو اپنے لیے مفید بناتا ہے، اپنے خیالات کو ترتیب دیتا ہے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ جبکہ احساسِ تنہائی انسان کے اندر بے کسی، اداسی اور عدمِ تعلق کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اس لیے حِراء کی خلوت کو تنہائی کے مفہوم میں سمجھنا درست نہیں۔ یہ ایک بامقصد اور تعمیری خلوت تھی، جس نے انسان کو اپنے باطن سے جوڑنے اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے کا موقع فراہم کیا۔
خلوت کا مطلب نہ لوگوں سے نفرت ہے، نہ خاندان سے لاتعلقی اور نہ ذمہ داریوں سے فرار؛ بلکہ یہاں خلوت سے مراد یہ ہے کہ انسان کچھ وقت کے لیے دنیاوی مشاغل سے الگ ہوکر اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر، تفکر اور محاسبۂ نفس کی طرف متوجہ ہو۔
خلوت اور محاسبۂ نفس
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو محاسبۂ نفس یعنی اپنے اعمال کے جائزے کی تاکید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (حشر: ۱۸)
یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خوب خبردار ہے۔
اس قرآنی حکم کے پیشِ نظر تربیتِ نفس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا وقت مقرر کیا جائے جس میں انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے؛ مثلاً: روزانہ چند منٹ نکال کر انسان اکیلے میں اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ آج میں نے اللہ کی رضا کے لیے کیا کیا؟ میری نماز کی کیفیت کیا رہی؟ میری زبان سے کس کو تکلیف پہنچی؟ میں نے قرآن کے لیے کتنا وقت نکالا؟ میں نے موبائل پر کتنا غیر ضروری وقت صرف کیا؟ میری کون سی عادت مجھے کمزور کر رہی ہے؟
یہی سوالات انسان کو information (معلومات) سے reflection (غور و فکر) اور reflection (غور و فکر) سے transformation (عملی تبدیلی) کا سفر طے کراتے ہیں۔ یعنی محض یہ جان لینا کافی نہیں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کو پہچانے، ان پر غور کرے اور پھر اپنی زندگی میں مطلوبہ تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔ یوں محاسبۂ نفس محض ماضی کا جائزہ نہیں رہتا؛ بلکہ آئندہ کی اصلاح اور بہتر زندگی کی بنیاد بن جاتا ہے۔
نوجوان نسل اور حِرا کی ضرورت
آج کی نوجوان نسل ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ اسکرین سے وابستگی بڑھتی جا رہی ہے؛ جبکہ خلوت اور سکون کے لمحات مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ معلومات کا سیلاب ہے؛ مگر غور و فکر کی گنجائش سمٹ چکی ہے۔ رابطوں کا دائرہ تو وسیع ہوا ہے؛ لیکن حقیقی تعلقات محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تفریح کے مواقع بے شمار ہیں؛ مگر زندگی کے اصل مقصد اور سمت پر سوچ بچار کے لیے وقت ناپید ہے۔
ایسے ماحول میں نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ہر خالی لمحہ اسکرین سے بھر دینا ذہنی سکون اور فکری نشوونما کے لیے ضروری نہیں۔ کبھی خاموشی اختیار کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، مطالعہ کرنا، قدرت کے مناظر میں غور و فکر کرنا اور اپنے اعمال کا جائزہ لینا بھی انسانی شخصیت کی تعمیر کا حصہ ہے۔
حرا سے حاصل ہونے والے تربیتی اسباق
رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں واقعۂ حِرا سے چند بنیادی تربیتی اسباق اخذ کیے جا سکتے ہیں:
پہلا سبق خلوت: رسول اللہ ﷺ نے تقریباً تین سال تک غارِ حرا میں خلوت اختیار فرمائی؛ لہٰذا انسان کو دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کر کچھ وقت باطن کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ قرآن مجید کا حکم ہے:
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا
یعنی: اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اُسی کے بنے رہو۔ (مزمل:۸)
ابن سیرین نے فرمایا:
العزلۃ عبادۃ (خلوت عبادت ہے)۔ (العزلہ للخطابی، صفحہ ۱۶)
اسی طرح فتنوں اور برائی کے دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے خلوت نشینی مستحسن بن جاتی ہے۔
دوسرا سبق تفکر: حضرت جبرئیل؈ کی آمد سے قبل رسول اللہ ﷺ کی عبادت کائنات میں تدبر تھی۔ زمین، آسمان اور اپنے وجود پر غور و فکر کرنا ہر انسان کے لیے ضروری ہے؛ تاکہ زندگی محض معمولات کی تکرار نہ بنے۔ ارشادِ باری ہے:
وَ فِیْ اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (الذاریات: ۲۱)
یعنی: خود تمہاری ذاتوں میں (یقین والوں کیلیے نشانیاں ہیں) تو کیا تم دیکھتے نہیں؟
تیسرا سبق وحی: خلوت کی انتہا وحی پر ہوتی ہے۔ غور و فکر کو درست سمت دینے اور منزل پانے کے لیے عقل کے ساتھ وحیِ الٰہی ناگزیر ہے؛ کیونکہ اصل ہدایت قرآنِ مجید کے پاس ہے۔
چوتھا سبق تزکیہ: وحی کے بعد سب سے پہلے آپ ﷺ نے اس کے تقاضوں کو عملی زندگی میں اتارا۔ اپنی خامیوں کی اصلاح اور کردار کو سنوارنے کا نام تزکیہ ہے، اور یہی بعثتِ نبوی کا بنیادی مقصد بھی قرار پایا۔
پانچواں سبق دعوت: حِرا سے نکلنے کے بعد آپ ﷺ کا مشن دعوت بنا۔ ایک مؤمن اصلاح کے بعد گوشہ نشین نہ رہے؛ بلکہ معاشرے کے لیے نفع بخش بنے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ (شعراء: ۲۱۴)
یعنی: اے محبوب! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔
اس طرح خلوت انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے، تفکر اسے سوال کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے، قرآن اسے صحیح سمت دکھاتا ہے، تزکیہ اسے اپنے اندر تبدیلی لانے کے قابل بناتا ہے اور دعوت اس کی اصلاح کے ثمرات کو دوسروں تک پہنچاتی ہے۔
اسی لیے حِراء کا پیغام یہ نہیں کہ دنیا چھوڑ دو؛ بلکہ حِرا کا پیغام یہ ہے کہ دنیا کی مشغولیات میں رہتے ہوئے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرو اور لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے دل کو اللہ سے وابستہ رکھو؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے لوگوں سے الگ نہیں ہوئے تھے۔ آپ ﷺ غارِ حرا سے حضرت خدیجہ کے پاس واپس آتے تھے، گھر سے تعلق رکھتے تھے، گھر کی ضروریات کو بھی پورا کرتے تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ جب دعوت کا حکم تو آپ ﷺ مکہ کے اسی معاشرے میں اترے جس میں شرک، ظلم، اخلاقی خرابیاں، قبائلی تعصب اور جاہلی رسوم موجود تھیں، اسی معاشرے میں اتر کر نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو بھلائی و خیر کی دعوت دی؛ یہاں تک کہ ۱۳؍ سال مکہ مکرمہ میں اور ۱۰؍ سال مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی دعوت کے نتیجے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا، جس سے ہر چہار دانگ عالم میں ایمان کی روشنی پھیل گئی۔
لہذا معلوم ہوا کہ غارِ حِرا کے پتھروں میں کوئی ماورائی تاثیر نہیں تھی، نہ اس کی بلندی میں بذاتِ خود کوئی شرعی تقدس تھا، نہ مکہ مکرمہ سے اس کا مخصوص جغرافیائی فاصلہ کوئی شرعی خصوصیت رکھتا تھا؛ بلکہ غارِ حرا کی اہمیت صرف اس وجہ سے تھی کہ اسے اللہ تعالیٰ نے نزولِ وحی کے لیے منتخب فرمایا اور یہیں سے نبوت، وحی اور دعوت کا وہ عظیم سفر شروع ہوا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا؛ چنانچہ غارِ حِرا کی اصل اہمیت اس ربانی واقعے اور اس عظیم تربیتی و دعوتی سفر سے وابستہ ہے جس کا آغاز نزولِ وحی کے ساتھ ہوا؛ لہٰذا آج کے انسان کو حِرا کے غار کی نقل کرنے سے زیادہ حِرا کی روح کی ضرورت ہے۔