از قلم: مفتی سعد مذکرقاسمی
خاتم التدریس مدرسہ سبیل السلام، نئی دہلی
پیارے بچو! دنیا میں بہت سے اچھے اور عظیم لوگ آئے؛ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دنیا کے سب سے بہترین، سچے اور سب سے زیادہ رحم دل انسان کون تھے؟ جی ہاں! وہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آئیے، آج ہم اُن کی خوب صورت اور سنہری زندگی کے کچھ قصے سنتے ہیں۔
سچائی اور امانت داری
ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن عام بچوں سے بالکل مختلف تھا۔ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں چرائیں؛ تاکہ اپنے کام خود کر سکیں اور محنت کی عادت اپنائیں۔ جب آپ ﷺ بڑے ہوئے تو تجارت (business) کا معزز پیشہ اپنایا۔ آپ ﷺ اتنے ایمان دار اور سچے تھے کہ مکہ کے سب لوگ آپ ﷺ کو ’’الصادق‘‘ (ہمیشہ سچ بولنے والا) اور ’’الامین‘‘ (امانت دار) کہہ کر پکارتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۶۲)
ایک دفعہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دیوار میں ایک خاص پتھر (حجرِ اسود) لگانے پر مکہ کے قبیلوں میں جھگڑا ہو گیا۔ تلواریں نکل آئیں؛ لیکن پھر سب نے فیصلہ آپ ﷺ پر چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے اتنی سمجھ داری اور انصاف سے فیصلہ کیا کہ سب خوش ہو گئے اور ایک بہت بڑی لڑائی رک گئی۔ (المستدرک علی الصحیحین: ۱۷۰۲)
بہادری، درگزر اور رحم دلی
آپ ﷺ بہت بہادر بھی تھے۔ ایک بار رات کو مدینہ کے لوگوں نے خطرے کی زور دار آواز سنی اور گھبرا کر باہر نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ پیارے نبی ﷺ بالکل اکیلے، ایک گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر خطرے والی جگہ کا چکر لگا کر واپس آ رہے ہیں اور مسکرا کر فرما رہے ہیں: ’’گھبراؤ نہیں، میں سب دیکھ کر آ گیا ہوں، کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: ۶۰۳۳)
پیارے بچو! ہمارے نبی ﷺ بے حد معاف کرنے والے تھے۔ جب پیارے نبی ۸ ھ میں اپنے صحابہ کے ساتھ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، تو آپ ﷺ نے کوئی غرور نہیں کیا؛ بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے عاجزی سے سر جھکائے مکہ میں داخل ہوئے۔ مکہ کے جن دشمنوں نے ماضی میں آپ ﷺ کو اور صحابہ ؇ کو بہت ستایا تھا، آپ ﷺ نے ان سب کو ایک ساتھ معاف کر دیا اور فرمایا: ’’آج تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو!‘‘ (زاد المعاد،ج:۳، ص: ۴۹۷)
پیارے بچو! ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے پیارے نبی ﷺ کی طرح سچ بولیں، بہادر بنیں، کسی کو تنگ نہ کریں اور سب کے ساتھ محبت اور رحم دلی سے پیش آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے بتائے ہوئے خوب صورت راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین