از قلم: مولانا نواب عالم ندوی
مہتمم: جامعہ معین الدین چشتی اجمیر
انسان کی حقیقی قدر و قیمت محض اس کے علم، مال، منصب یا ظاہری صلاحیتوں سے متعین نہیں ہوتی؛ بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ کردار ہی وہ بنیاد ہے جس پر اعتماد قائم ہوتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور جس کی وجہ سے معاشرہ افراد کو قابلِ اعتبار سمجھتا ہے۔ اسی لیے نوجوان نسل کی تعلیم کے ساتھ اس کی کردار سازی بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ، کردار سازی کا ایک ایسا کامل نمونہ پیش کرتی ہے جو کسی خاص عمر، طبقے یا زمانے تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ پوری انسانی زندگی کے لیے اسوہ ہیں۔ تاہم جوانی؛ چونکہ شخصیت کی تعمیر، عادات کی تشکیل اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک اہم مرحلہ ہے، اس لیے نوجوانوں کی کردار سازی کے حوالے سے آپ ﷺ کی شخصیت کے دو نمایاں اوصاف ’’صدق و امانت‘‘ کو گفتگو کا محور بنایا جا رہا ہے۔
لقب ’’الصادق، الامین‘‘ کا پس منظر
رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں صدق و امانت کو خاص مقام حاصل تھا۔ نبوت سے قبل ہی آپ ﷺ اپنی سچائی، امانت داری اور حسنِ کردار کی وجہ سے اہلِ مکہ کے درمیان ’’الصادق، الامین‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے منکرین بھی آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری کے معترف تھے۔ یہ ان کی طرف سے آپ ﷺ کے اعلی کردار کا ایک معاشرتی اعتراف تھا؛ کیونکہ وہ آپ ﷺ کی سچائی اور دیانت داری کو عملاً برت رہے تھے، اس کے مثبت اثرات سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ اس لیے وہ الصادق اور الامین کے لقب سے آپ ﷺ کا تذکرہ کرتے تھے؛ چنانچہ یہ محض ایک اعزازی لقب نہ تھا؛ بلکہ آپ ﷺ کی شخصیت کا جلی عنوان تھا۔
آپ ﷺ کی جوانی میں پیش آنے والا حجرِ اسود کی تنصیب کا واقعہ بھی اسی اعتماد کا ایک نمایاں مظہر ہے۔ کعبہ کی تعمیرِ نو کے موقع پر جب قبائل کے درمیان حجرِ اسود کو اس کی جگہ رکھنے میں اختلاف پیدا ہوا اور معاملہ نزاع کی حد تک پہنچ گیا تو آپ ﷺ کو فیصل تسلیم کیا گیا۔ جس میں تمام قبائل کے نمائندوں نے آپ ﷺ کی صدق و امانت کا حوالہ دیتے ہوئے اتفاق کا اظہار کیا؛ چنانچہ آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھوا کر اس کو قبائل کے سرداروں سے اٹھوایا اور پھر اپنے دستِ مبارک سے اسے اس کی جگہ نصب فرمایا۔ اس حکیمانہ فیصلے سے اختلاف ختم ہوا اور سب قبائل کو اس عمل میں شریک ہونے کا موقع بھی مل گیا۔ اس واقعے کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ یہ بعثت سے قبل آپ ﷺ کی جوانی کا واقعہ تھا۔ اس وقت آپ ﷺ کی سچائی، امانت داری، حکمت اور معاملہ فہمی نے معاشرے میں ایسا اعتماد پیدا کردیا تھا کہ شدید قبائلی اختلاف کے وقت بھی آپ ﷺ کو قابلِ اعتماد فیصلہ کرنے والی شخصیت سمجھا گیا۔
صدق و امانت کے عملی مظاہر
صدق و امانت، بلند کردار کی بنیادی صفات ہیں۔ صدق محض زبان سے سچ بولنے کا نام نہیں؛ بلکہ انسان کے باطن، قول، عمل اور رویے میں مطابقت پیدا کرنے والی جامع اخلاقی صفت ہے؛ جبکہ امانت فرد اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا بنیادی وسیلہ ہے۔
سچائی کی عادت انسان کو بہت سی برائیوں سے بچاتی ہے۔ جو شخص سچ بولتا ہے وہ وعدہ خلافی سے بچنے، راست گوئی اختیار کرنے، امانت داری اور وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے کردار میں صداقت نمایاں ہوتی ہے۔ ایسا شخص قابلِ اعتماد ہوتا ہے؛ جب کہ قول و عمل کا تضاد نفاق کی علامت بن جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد باری ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹)
یعنی: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے سچائی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف؛ جبکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف۔ (صحیح مسلم:۲۶۰۷)
صدق کا تعلق صرف زبان سے نہیں؛ بلکہ انسان کے دل، نیت اور عمل سے بھی ہے۔ انسان کے ظاہر اور باطن میں یکسانیت ہو، اس کی زبان کا قول، دل کی کیفیت اور اس کا عمل ایک دوسرے کی تصدیق کریں، تو یہ صدقِ کردار کی اعلیٰ صورت ہے۔
صدقِ عملی کے مراتب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان جو ارادہ کرے، اس میں تردد و تذبذب نہ ہو اور آزمائش کا وقت آنے پر اپنے عزم و ارادے پر قائم رہے۔ اس سے آگے صدقِ عمل کا مرتبہ یہ ہے کہ انسان جو قول اور کردار اختیار کرے، وقت پڑنے پر اسے پورا بھی کرے۔
حضرت انس بن نضر کی زندگی اس کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ انہیں غزوۂ بدر میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا؛ چنانچہ انہوں نے اس خواہش اور عزم کا اظہار کیا کہ اگر انہیں کسی غزوہ میں شرکت کا موقع ملا تو وہ اپنی جاں بازی کے جوہر دکھائیں گے۔ بعد میں غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے، نہایت شجاعت کے ساتھ لڑے اور شہادت حاصل کی۔ یوں ان کا عمل ان کے قول اور عہد کی سچی تصدیق بن گیا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ
یعنی: مومنوں میں کتنے ہی ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ (الاحزاب: ۲۳)
نبوی کردار سازی کے اصول
آپ ﷺ کا منہج تربیت یا کردار سازی کا طریقہ ایک جامع اور مکمل حکمت عملی پر مبنی تھا، جس میں تربیت کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جاتا تھا، اس طریقہ کار کی سب سے نمایاں خصوصیت قول و عمل کی جامعیت تھی، یعنی آپ ﷺ کے تربیتی منہج میں محض نظری تعلیم یا زبانی ہدایات پر اکتفا نہ کیا جاتا تھا؛ بلکہ قول کے ساتھ عمل اور نظریے کے ساتھ تطبیق اختیار کی جاتی تھی، جن اعلی فضائل و خصائل اور بلند ترین شمائل کی امت کو تعلیم دیتے تھے، آپ ﷺ خود اُن کا اعلی ترین مظہر تھے۔ آیت ربّانی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: ۲۱) کی وسیع تعبیر میں یہ تمام باتیں بھی شامل ہیں۔
چنانچہ آپ ﷺ کے زیر تربیت صحابۂ کرام ؇ کی جو جماعت تیار ہوئی، وہ دین اسلام کی نمائندہ اور تمام اخلاقی دینی اقدار کی عملی مظہر تھی۔ اسلامی تعلیمات اپنی شان کے ساتھ ان کے مابین مجسم شکل میں دکھائی دیتی تھیں۔
آپ ﷺ کے اخلاق کی بابت حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے ایک جملے میں مکمل صورت حال واضح فرمادی، انہوں نے فرمایا: ’’کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآنَ‘‘ یعنی: آپ ﷺ کا اخلاق من وعن قرآن تھا۔
حضرت علی مرتضیٰ آغازِ نبوت سے لے کر وفات تک برابر آپ ﷺ کے ساتھ رہے تھے۔ ان سے حضرت حسین نے آپ ﷺ کے اخلاق و عادات کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آپ ﷺ خندہ جبیں و نرم خو تھے، سخت مزاج اور سنگ دل نہ تھے، نہ شور وغل کرتے تھے، نہ کوئی برا کلمہ منہ سے نکالتے تھے، نہ عیب جواور سخت گیر تھے، کوئی بات ناپسند ہوتی تو اعراض فرماتے تھے۔
آپ ﷺ نے اپنے نفس سے تین باتیں بالکل خارج کردی تھیں:
(۱) بحث و مباحثہ (۲) بے ضرورت باتیں کرنا (۳) بے مطلب کی بات پر اڑنا۔
دوسروں کے متعلق بھی تین باتوں سے پرہیز کرتے تھے:
(۱) کسی کو برا نہیں کہتے تھے (۲) کسی کی عیب گیری نہیں کرتے تھے (۳) کسی کی ٹوہ میں نہیں لگتے تھے۔
دوسروں کے منہ سے اپنی تعریف سننا پسند نہیں کرتے تھے۔ نہایت فیاض، نہایت راست گو، نہایت نرم طبع اور نہایت خوش صحبت تھے۔ اگر کوئی دفعۃً سامنے آجاتا تھا تو مرعوب ہوجاتا تھا؛ لیکن جیسے جیسے آشنا ہوتا جاتا آپ ﷺ سے محبت کرنے لگتا۔ ؎
اچانک دیکھ لیتا جب کوئی مرعوب ہوجاتا
مگر اللہ کا محبوب پھر محبوب ہو جاتا
یہ تمام اوصاف اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ نبوی کردار سازی محض نظری تعلیم کا نام نہیں؛ بلکہ نرم خوئی، عفو و تحمل، راست گوئی، حسنِ سلوک اور دوسروں کے احترام کو عملی زندگی میں اختیار کرنے کا نام ہے۔
اسی جامع نبوی نمونے کے پیشِ نظر نوجوانوں کے کردار کی تعمیر میں صدق، امانت داری، ذمہ داری اور اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جوانی میں شخصیت کے بنیادی اوصاف، عادات اور رویے زیادہ مضبوطی سے تشکیل پاتے ہیں؛ اس لیے اس عمر میں پیدا ہونے والی اخلاقی صفات مستقبل کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
نوجوانوں کو درپیش اخلاقی چیلنجز
آج نوجوانوں کی کردار سازی کے سلسلے میں سب سے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ اخلاق کو زندگی کے مختلف دائروں سے مربوط کیا جائے۔ اخلاق کا آغاز انسان کے باطن سے ہوتا ہے، جہاں صدق، یقین، توکل، صبر، شکر، نیک نیتی اور عاجزی و انکساری جیسی صفات انسان کے ایمانی کردار کو مضبوط کرتی ہیں۔ یہی باطنی صفات آگے چل کر اس کی زبان، معاملات اور تعلقات میں ظاہر ہوتی ہیں؛ چنانچہ زبان کے اخلاق میں سچ بولنا، جھوٹ سے اجتناب، غیبت اور افتراء سے بچنا، بدزبانی سے اجتناب اور کسی کو برا بھلا نہ کہنا شامل ہیں۔ زبان کی صفائی کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ انسان جھوٹ سے بچے اور صدق و تقویٰ اختیار کرے۔
قرآنی آیات کے مطابق، اخلاق کا دائرہ معاشرتی زندگی تک پھیلاہوا ہے، جہاں محبت و بردباری، حسنِ سلوک، مہمان نوازی، پڑوسیوں کا خیال، صلہ رحمی اور انسان دوستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خاندانی زندگی میں والدین کی خدمت و اطاعت، میاں بیوی کا باہمی احترام، چھوٹوں سے محبت اور بڑوں کی عزت، اخلاقی کردار کا حصہ ہیں۔ اسی طرح انسانی حقوق کے میدان میں غریبوں کی مدد، یتیموں کی کفالت، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد، مسافروں اور سائلوں کی امداد، بیواؤں کی خبرگیری، حاجت مندوں کی مدد، کمزوروں سے حسنِ سلوک اور بیماروں کی عیادت اخلاقی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
عملی زندگی جن اخلاقی اصولوں کا تقاضا کرتی ہے، ان میں، وعدہ پورا کرنا، عہد کی پابندی، قول و فعل کی صداقت، احسان و مروّت، عفو و درگزر، صبر و تحمل، سخاوت و فیاضی، پاکیزگی و نظافت، حلال کمائی، حقوق کی ادائیگی اور انصاف و عدل شامل ہیں۔ یوں نوجوانوں کی کردار سازی صرف چند اخلاقی نصیحتوں تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ باطن سے شروع ہو کر، زبان، خاندان، معاشرے، معاملات اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی تک پھیل جاتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاقی تعلیمات کا یہی جامع تصور ملتا ہے؛ چنانچہ ان میں، بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت و شفقت، بڑوں کی عزت، بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اہلِ محلہ سے حسنِ سلوک، یتیموں کی پرورش، بیواؤں کی خبرگیری، حاجت مندوں کی مدد، غریبوں اور مسکینوں کی خبرگیری، بیماروں کی عیادت، شرم و حیا، نرمی، عفو و درگزر، صبر و تحمل، غیبت سے اجتناب، راز داری، خوش خلقی اور فضول گفتگو سے پرہیز جیسی تعلیمات اخلاقی تربیت کے وسیع میدان کو واضح کرتی ہیں۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق، صدقہ و خیرات، ایثار و قربانی، تواضع و انکساری، سادگی و قناعت، حلال کمائی، ظلم و زیادتی سے اجتناب، عدل و انصاف بغض و حسد سے بچنا، غصے پر قابو پانا، نیک نیتی، صداقت، امانت داری، وعدہ پورا کرنا اور حقوق ادا کرنا بھی نبوی اخلاقی تعلیمات کا حصہ ہیں۔
عصرِ حاضر میں ’’صدق وامانت‘‘ کی اہمیت
موجودہ معاشرے کے تمام طبقات متعدد اخلاقی خرابیوں سے دوچار اور قسم قسم کی برائیوں میں مبتلا ہیں، ان میں نوجوانوں کا طبقہ بھی بطور خاص قابل توجہ ہے؛ جیسا کہ اوپر تفصیلات آچکی ہیں، ’’صدق و امانت‘‘ کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے اور ان کے عملی پہلو ہمہ جہت ہیں، مثلا: ’’صدق‘‘ میں زبان کی سچائی، دل کی سچائی، اور عمل کی سچائی شامل ہے، اسی طرح ’’امانت‘‘ بھی ایک ہمہ جہت خصلت ہے، جس کا دائرہ کار زندگی کے تمام معاملات تک پھیلا ہوا ہے؛ صدق اور امانت کے درمیان گہرا رشتہ ہے، ان کے متعدد پہلوؤں کو قرآن و حدیث میں واضح کیا گیا ہے اور ان کے مراتب و درجات پر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔
سچی زبان کے ساتھ سچا عمل، نیک نیتی کے ساتھ ذمہ داری، وعدے کے ساتھ وفا، اختیار کے ساتھ امانت اور اختلاف کے باوجود حسنِ سلوک ایک ایسے متوازن کردار کو تشکیل دیتے ہیں، جس پر فرد اور معاشرہ اعتماد کرسکتا ہے۔ قرآنِ کریم صدق کو ایمان اور عمل کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِينَ آمَنُوْا بِاللهِ وَرَسُولِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجَاهَدُوْا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيلِ اللهِ ۚ أُولٰٓئِكَ هُمُ الصَّادِقُوْنَ
یعنی: مومن تو بس وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر، پھر انہوں نے کوئی شک و شبہ نہیں کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیایہی وہ لوگ ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔ (الحجرات: ۱۵)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ سچے ایمان کا تعلق محض دعوے سے نہیں؛ بلکہ یقین اور عمل سے بھی ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ کردار کی اصل قوت صدق، امانت داری، حسنِ سلوک، عفو، تواضع، ذمہ داری اور قول و عمل کی یکسانیت میں ہے۔ جب یہ صفات فرد کے باطن میں پیدا ہوتی ہیں تو اس کی زبان پاکیزہ، اس کے معاملات درست، اس کے تعلقات مضبوط اور اس کا معاشرتی کردار قابلِ اعتماد بن جاتا ہے۔ یہی وہ جامع اخلاقی تربیت ہے جس کے ذریعے نوجوان اپنی شخصیت کو ایک ایسے نبوی معیار سے وابستہ کرسکتے ہیں جس میں ’’صدق و امانت‘‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔