از قلم: صداقت علی قاسمی
استاذ مدرسہ امینیہ دہلی
عصرِ حاضر فکری انتشار اور اخلاقی بحران کے حوالے سے ایک المناک دور ہے، جس میں ذہنی پریشانی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے اور انسانی قدریں پامال ہو کر رہ گئی ہیں، انسان روحانیت، اخلاق اور اقدار جیسی اعلیٰ صفات سے روز بہ روز محروم اور مادیت، اباحیت اور بے راہروی جیسے مذموم اوصاف سے متأثر ہوتا جا رہا ہے، زندگی سے قلبی اطمینان، ذہنی سکون اور یکسوئی روز بہ روز ختم ہو تی جاتی ہے؛ جب کہ نفسیاتی الجھنیں اور بے چینی وڈپریشن کی کیفیات اس کا حصہ بنتی چلی جا رہی ہیں، انسانیت کو موجودہ پستی و انحطاط سے نجات دلانا اور اسے روحانی وفکری اقدار سے آراستہ کرنا وقت کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، جس کا بہت کچھ سامان رسولِ خدا ﷺ کی سیرتِ پاک میں بھی موجود ہے۔ خاص طور پر غارِ حراء میں خلوت وعبادت ،تفکر وتدبر اور مراقبہ ومشاہدہ کا واقعہ اس سلسلے میں بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
پیشِ نظر صورتِ حال کے ازالے کے لیے اس واقعہ سے اخذ و استفادہ کرنا اور اس کے مضمرات ومتعلقات سے ہدایت ورہ نمائی حاصل کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے؛ چناں چہ ذیل کی سطور میں اسی مقصد کے تحت خامہ فرسائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غارِ حرا کا تاریخی پس منظر
غارِ حرا میں اختیار کی جانے والی خلوت وریاضت سے اخذ و استفادے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مبارک غار کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی دی جائے؛ تاکہ آگے کے مضمون کو سمجھنے میں آسانی ہو اور مضمون کے مشمولات باہم مربوط ہو سکیں۔ چنانچہ سب سے پہلے سیرت نگاروں کی تشریح کے مطابق غارِ حرا کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
غارِ حِرا، کوہِ حرا (جس کو آج کل جبلِ نور کہتے ہیں) میں ایک غار ہے، مکہ سے تین میل کے فاصلے پر منٰی جاتے ہوئے بائیں سمت واقع ہے۔ یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے، یہ غار نیچے کی جانب گہرا نہیں ہے؛ بلکہ ایک مختصر راستے کے بازو میں اوپر کی چٹانوں کے باہم ملنے سے ایک کوتل کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔
(الرحیق المختوم، ص: ۹۶۔ تاریخِ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی، ج:۱ ،ص:۸۶)
غار حرا، پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر اس کے پہلو میں جانب مغرب واقع ہے۔
(حاشیہ اوشحۃ الجید، ص:۹۰)
عطاء نبوت کے قریبی زمانے میں جب حضور ﷺ کو خلوت نشینی کی طرف رغبت ہو گئی تھی، تو آپ ﷺ اسی غار میں تشریف لے جاتے، کئی کئی شب قیام کرتے اور یادِ خدا میں مشغول رہا کرتے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا نیند میں اچھے خواب سے ہوئی، آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے تھے، وہ سپیدۂ صبح کی طرح نمودار ہوتا تھا، پھر آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہو گئی؛ چناں چہ آپ ﷺ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروفِ عبادت رہتے، اس کے لیے آپ ﷺ توشہ لے جاتے، پھر (توشہ ختم ہونے پر) حضرت خدیجہ کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے؛ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس حق آیا اور آپ غارِ حرا میں تھے، یعنی آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو۔ (صحیح بخاری، ج:۱، ص:۲۔ صحیح مسلم، ج:۱، ص:۸۸)
غرض یہ کہ غارِ حرا ہی وہ مقام ہے جہاں خلوت گزینی کے دوران ہی آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو نبوت ورسالت سے سرفراز کیا گیا۔
خلوت کا مقصد اور حکمت
غارِ حرا کی خلوت و تنہائی میں حضور ﷺ ہمہ وقت قدرتِ الٰہیہ پر غوروفکر کرتے، تحمید وتقدیسِ الٰہی میں مصروف رہتے اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے، اس وقت دنیا سے کٹ کر خالص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا اور اس کی ذات میں غور وفکر کرتے رہنا ہی آپ ﷺ کی عبادت تھی، اس کے علاوہ اس غار کی خلوت گزینی میں تین عبادتیں اور بھی جمع ہو جاتی تھیں۔ اول تو خلوت گزینی ہی عبادت تھی، پھر اس غار میں رہ کر آپ ﷺ جن مشاغل میں مصروف رہے وہ بھی عبادت ہی تھے، تیسرے یہ کہ غارِ حرا کا ایک حصہ بیت اللہ کی طرف جھکا ہوا ہے، جس پر بیٹھ کر نظر بیت اللہ پر پڑتی ہے اور روایت سے ثابت ہے کہ بیت اللہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔
(فیض الباری، ج:۱، ص:۹۹۔ ایضاح البخاری، ج:۱، ص:۹۳،۹۴)
غارِ حرا کی خلوت در اصل رسول اللہ ﷺ کی روحانی فکری اور اخلاقی تیاری کا اہم مرحلہ تھی؛ یہاں عبادت، ریاضت اور خلوت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی فطرت میں ودیعت کی ہوئی روحانی قوتوں کو جلا بخشی؛ تاکہ آپ ﷺ تحمّلِ وحی اور منصبِ نبوت کی عظیم ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے تیار ہوں اور مستقبل میں کارِ عظیم انجام دینے کے لیے مستعد و آمادہ ہو جائیں۔
مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی یہ تنہائی پسندی بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھی، اس طرح اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آنے والے کارِ عظیم کے لیے تیار کر رہا تھا، درحقیقت جس روح کے لیے بھی یہ مقدر ہو کہ وہ انسانی زندگی کے حقائق پر اثر انداز ہو کر ان کا رخ بدل ڈالے اس کے لیے ضروری ہے کہ زمین کے مشاغل، زندگی کے شور اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ہمّ و غم کی دنیا سے کٹ کر کچھ عرصے کے لیے الگ تھلگ اور خلوت نشیں رہے۔
ٹھیک اسی سنت کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو امانتِ کبریٰ کا بوجھ اٹھانے اور روئے زمین کو بدلنے اور خطِّ تاریخ کو موڑنے کے لیے تیار کرنا چاہا تو رسا لت کی ذمہ داری عائد کرنے سے تین سال پہلے آپ ﷺ کے لیے خلوت نشینی مقدر کردی۔
(الرحیق المختوم، ص:۹۶،۹۷)
تفکر تدبر اور تزکیۂ نفس
بہرِ حال! رسول اللہ ﷺ غارِ حرا میں خلوت گزینی کے دوران مراقبہ ومحاسبہ اور تفکر وتدبر جیسے اعمال میں مشغول رہا کرتے تھے؛ تاکہ معرفتِ الہی کی دولت ہاتھ آئے اور باطنی وروحانی طور پر استحکام نصیب ہو؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات میں غور وفکر کرنا اور اس کے احکامات میں تدبر کرنا، ایسے اوصاف ہیں جو انسانی روح کو پاکیزہ بناکر اسے اللہ سے قریب کر دیتے ہیں، اس کے علاوہ ان اعمال کی انجام دہی کے ذریعے دل اللہ کی عظمت سے بھر جاتا ہے۔ زندگی کا اصل مقصد واضح ہو کر صحیح و غلط کا فرق معلوم ہوجاتا ہے اور انسان کے اندر اپنے اعمال کو سدھارنے کا شوق وجذبہ بیدار ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر انسان تزکیۂ نفس کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
اسی افادیت کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے بھی اعطاء نبوت سے قبل تفکر و تدبر اور تزکیۂ نفس جیسے مشاغل کو اختیار کراکر ان کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا، نیز قرآن کریم نے بھی ان اوصاف ثلاثہ پر زور دیا اور ظاہری وباطنی طور پر شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں ان سے استفادہ کا مطالبہ کیا ہے۔
عصرِ حاضر کے فکری واخلاقی چیلنجز
عصرِ حاضر کو فکری بے راہ روی اور اخلاقی ابتری کے لحاظ سے ایک آشوب ناک دور قرار دیا گیا ہے، جس میں بنی نوعِ انسان کو دینی، اخلاقی، معاشرتی، تہذیبی اور تمدنی ہر سطح پر انحطاط وتنزل کا سامنا ہے اور اعلٰی اقدار وروایات سے دن بہ دن محروم ہونا پڑ رہا ہے، بے دینی اور مادیت کا ماحول اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ چھایا ہوا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ کے بے محابا غلط استعمال نے اس ماحول میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، نتیجہ سامنے ہے کہ نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بڑوں سے اطمینان و وقار اور حلم و بردباری جیسی صفات رخصت ہوتی جارہی ہیں، پورا انسانی معاشرہ آہستہ آہستہ فکری تشتّت وانتشار اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
غرض یہ کہ جاہلیتِ اولٰی (ماقبلِ اسلام کے ماحول ) کی کوئی ہی خرابی ایسی باقی رہی ہوگی جو اس جاہلیت جدیدہ (موجودہ زمانے) میں نہ پائی جارہی ہو اور انسانی معاشرے کو کھوکھلا نہ کر رہی ہو۔ ایسے پر فتن حالات اور سنگین مسائل سے نبردآزما ہونا اور ان سے کامیابی کے ساتھ نجات پانا وقت کی اہم ضرورت ہے؛ تاکہ برائیوں کا خاتمہ ہوسکے اور صالح اسلامی معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایمان ویقین کی پختگی اور ظاہری وباطنی استحکام کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ فی زماننا بگاڑ وفساد کی جس قدر بھی شکلیں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جس قسم کے بھی مسائل دنیا کے سامنے آئے ہیں ان کا مقابلہ ایمانی، انسانی اور اخلاقی قدروں کو اپنانے اور اپنے آپ کو روحانی، فکری اور نظریاتی پختگی سے ہمکنار کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے مطلوبہ اوصاف سے آراستہ ہونے پر توجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔
یوں تو ایمان ویقین کی پختگی اور فکری واخلاقی مضبوطی حاصل کرنے کی مختلف شکلیں دین میں رائج ہیں جو تمام کی تمام نفع بخش اور ثمرآور ہیں؛ مگر انہیں میں ایک متبرک آزمودہ اور زوداثر شکل وہ ہے جسے رسولِ خدا ﷺ نے قربِ نبوت کے زمانے میں اختیار کیا، یعنی غارِ حرا کی خلوت میں آپ ﷺ کے اختیار کردہ مشاغل، ذکر وفکر، تفکر وتدبر اور مراقبہ ومشاہدہ کے ذریعے سے تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہونا اور اس راہ پر گامزن ہو کر للہیت و روحانیت کی قوت و استعداد بہم پہنچانا بھی ایک ایسا طریقہ ہے کہ جسے اختیار کرکے عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ان سے کامرانی کے ساتھ عہدہ برآ ہوا جاسکتا ہے۔
غارِ حرا سے حاصل ہونے والے تربیتی اسباق
غارِ حرا میں رسول اللہ ﷺ کی خلوت گزینی اور اس دوران انجام دی جانے والی عبادت وریاضت اپنے اندر بہت سے تربیتی اسباق رکھتی ہے، جن سے استفادہ کرکے دورِ حاضر کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ نیز زندگی کو خیر وبرکت اور امن وسکون کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس لیےذیل میں اس بابرکت مشغلے سے حاصل ہونے والے چند تربیتی اسباق درج کیے جاتے ہیں:
(۱) خلوت گزینی وگوشہ نشینی: اصلاحِ احوال کے لیے باطل ماحول سے فکری طور پر الگ ہوجانا اور خلوت وگوشہ نشینی اختیار کرلینا غارِ حرا کا سب سے اہم تربیتی سبق ہے۔
(۲) تفکر وتدبر اور مراقبہ ومشاہدہ: قلب ونظر کی بیداری کے لیے کائنات کے اسرار ورموز پر غور کرنا اور خالقِ کائنات کی ذاتِ والا صفات کے بارے میں تفکر وتدبر کرتے رہنا بھی اس کا اہم پیغام ہے۔
(۳) خود احتسابی وتزکیۂ نفس: روح کی پاکیزگی کے لیے اپنے اقوال وافعال کا جائزہ لیتے رہنا اور اپنے نفس کو مزکّٰی ومصفّٰی بنانے کی کوشش کرتے رہنا بھی ایک اہم ہدایت و رہنمائی ہے۔
(۴) عبادت کی عظمت اور یکسوئی: اسی طرح خداکی بندگی اور عبادت کو ہر چیز سے مقدم جاننا اور اس کے لیے یکسوئی اختیار کرنا بھی غارِ حرا کی اہم تعلیم ہے۔
(۵) عظیم کام کے لیے ہمہ جہت تیاری: غارِ حرا کی خلوت سے یہ اہم سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑے کام، خصوصاً دینی و دعوتی جدوجہد کا آغاز کرنے سے قبل روحانی اور فکری تیاری کا اہتمام نہایت ضروری ہے۔
غرض یہ کہ جس طرح سیرتِ رسول ﷺ کے دوسرے پہلو ایمانی وانسانی زندگی میں مکمل ہدایت فراہم کرتے ہیں، اسی طرح غارِ حرا میں خلوت کا واقعہ بھی بھرپور رہنمائی کرنے والا ہے، نیز جس طرح سیرتِ طیبہ کی دوسری جہتوں سے اخذ و استفادہ کیا جاتا ہے اسی طرح اعطائے نبوت کے قریبی زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے اختیار کردہ مشاغل ومراسم سے بھی فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔