میثاقِ مدینہ ریاستِ نبوی ﷺ کی آئینی بنیاد

از قلم: مفتی محمد ندیم قاسمی

استاذ حدیث و فقہ جامعہ عربیہ حیات العلوم مرادآباد
اكتوبر تا دسمبر 2026ء
میثاقِ مدینہ ریاستِ نبوی ﷺ کی آئینی بنیاد

میثاقِ مدینہ کا پس منظر

نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں ۱۳؍ سال تک مسلسل جد و جہد کی اور احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی خاطر گالیاں سنیں۔ دینِ حق کے غلبے اور سربلندی کے اس عظیم مشن کی تکمیل کے لیے رات دن ایک کیا۔ بھوک پیاس کے باوجود پتھر مارے گئے؛ حتی کہ جسم اطہر لہو لہان ہو گیا۔ ان تکالیف اور آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا کہ دعوتی مرکز تیار کرو اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا فرمان جاری ہوا۔ جس عمل کی برکت سے دینِ محمد ﷺ فکری و اعتقادی حدود سے نکل کر ایک عملی، قانونی اور ریاستی نظام میں ڈھل گیا۔

مدینہ منورہ ہی کیوں ہجرت کی؟

مدینہ منورہ جسے اس وقت یثرب کہا جاتا تھا، کوئی یکساں اور متحد خطہ نہ تھا؛ بلکہ قبائلی عصبیتوں، مذہبی تنوع، معاشی کشمکش اور داخلی خانہ جنگیوں کا شکار بکھرا ہوا معاشرہ تھا۔ آپ ﷺ کی ہجرت اس معاشرے کو امن، عدل اور وحدت میں ڈھالنے کی حکمتِ نبوی ﷺ کا نقطۂ آغازبنی۔

یثرب ایک آزاد خود مختار شہر نہ تھا؛ بلکہ قبائل کی آپسی خود مختار وحدتوں پر مشتمل ایک منتشر سماج تھا۔ اس میں بنیادی طور پر دو عرب قبائل ’’اوس اور خزرج‘‘ آباد تھے۔ جو مشرک اور بت پرست تھے، جن میں دہائیوں سے جنگ و جدال جاری تھا۔ ان کے ساتھ یہود بھی آباد تھے، جو اہلِ کتاب اور اہلِ علم ہونے کے باوجود اقلیت میں تھے۔

(سیرت مصطفی،ج: ۱، ص: ۳۵۱)

مدینہ کے یہودی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور معاشی و سیاسی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، وہ توراتی علما قبائلی اتحاد اور مالی استحکام کی بنا پر مدینہ کی پالیسی سازی میں بااثر تھے؛ چنانچہ مدینہ کو خانہ جنگی اور انتشار و افتراق سے بچا کر ایک مضبوط مستحکم نظام قانون کی ضرورت تھی۔ مدینہ والوں کو انتظار تھا ایک ایسے قائد و لیڈر کا جو ان کو اس ضلالت و گمراہی سے نکال کر راہِ ہدایت پر گامزن کرے۔ دوسری طرف حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے ماننے والوں کو ایک ایسے میدان کارزار اور ایک ایسی ریاست کی ضرورت تھی، جہاں ایمان و عمل کی آزادی ہو، دعوت و تبلیغ کا مرکز ہو، اس کے لیے مدینہ منورہ چنا گیا۔

مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد اور حیثیت:

ہجرت کے وقت مدینہ میں مہاجرین کی تعداد محدود تھی اور انصار (یعنی اوس و خزرج سے مسلمان ہونے والوں) کی تعداد شروع میں ۳۰۰؍ یا چار سو ۴۰۰؍ تھی۔ یہ فقیر و مظلوم تھے، عددی لحاظ سے اقلیت میں تھے، سیاسی حیثیت ابھی قائم نہ تھی؛ مگر روحانی و اخلاقی قوت کا مرکز تھے۔ ایمان لانے والے خزرج کے چھ آدمی تھے، جن کے نام حسب ذیل ہیں: اسعد بن زرارہ، عوف ابن الحارث، رافع ابن مالک بن عجلان، قطبہ بن عامر، عقبہ بن عامر، جابر بن عبد اللہ بن رئاب۔ اور بعض علما نے بجائے جابر کے عبادہ ابن الصامت کا نام ذکر کیا ہے۔ بہرحال انہی حضرات نے نبی اکرم ﷺ کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے مدینہ کو ایک نئی ریاستی وحدت میں ڈھالنے کا راستہ کھولا۔

(سیرۃ المصطفیٰ، جلد:۱، ص:۳۵۱۔ سیرۃ النبی، ج:۲ ص:۳۰۔ زاد المعاد، جلد:۲، ص:۴۵)

نبی کریم ﷺ کی آمد اور قیادت کا قیام:

جب نبی کریم ﷺ قبا کے مقام پر تشریف لائے تو مختلف قبائل، خصوصاً بنو عمرو ابن عوف نے آپ ﷺ کو اپنا مہمان بنایا۔ آپ ﷺ نے ابتدائی ایام میں اولاً مسجد قبا تعمیر کی۔

ابن اسحاق فرماتے ہیں جس روز آں حضرت ﷺ ہجرت فرما کر قبا میں داخل ہوئے وہ دوشنبہ کا دن تھا، تاریخ بارہ ربیع الاول تھی اور ۱۳ نبوی تھی۔ دیگر علماءِ سیرت کے نزدیک ۸؍ ربیع الاول بروز دوشنبہ دوپہر کے وقت آپ ﷺ نے قبا میں نزول اجلال فرمایا۔ علامہ ابن حزم اور مغلطائی نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج:۲، ص:۱۰۲، الناشر: دار الکتب العلمیہ)

اور جب مدینہ (جو پہلے یثرب تھا) میں جلوہ افروز ہوئے تو آپ ﷺ کا استقبال پورے شہر نے ’’طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا‘‘ جیسے پرجوش انداز میں الفت بھرے الفاظ سے خوشی اور مسرت کے ساتھ کیا، جو قیادتِ محمدی ﷺ پر مکمل اعتماد کا مظہر تھا۔

مدینہ منورہ پہنچ کر سب سے پہلے آپ ﷺ نے مہاجرین و انصار میں مواخات کرائی۔ قبائلی سرداروں کو متحد کیا۔ یہود سے معاہدہ کی حکمت و ضرورت کو اجاگر کیا۔ بالآخر میثاقِ مدینہ کی صورت میں ایک جامع تحریری معاہدہ نافذ ہو گیا۔

(فقہ السیرۃ النبویۃ لمنیر الغضبان، ص:۳۵۵)

میثاق مدینہ کیا ہے؟

میثاقِ مدینہ اسلامی ریاست کا پہلا تحریری آئین اور عہدِ نبوی ﷺ کی اسلامی ریاست کا باضابطہ آغاز تھا۔ ابن ہشام نقل کرتے ہیں:

كَتَبَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَاباً بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَادَعَ فِيهِ يَهُودَ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج۱، ص:۵۰۱)

یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک تحریر (معاہدہ) لکھی، اور اس میں یہودیوں کے ساتھ بھی صلح و معاہدہ کیا۔

چنانچہ علامہ شبلی نعمانی میثاق مدینہ کے تعارف میں رقم طراز ہیں: ’’میثاق مدینہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے سیاسی پہلو کا وہ جلال ہے جسے دنیا نے پہلی بار دیکھا۔‘‘

(سیرۃ النبیﷺ علامہ شبلی: ۲۹۷)

علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں: یہ معاہدہ اسلامی ریاست کا ابتدائی آئین ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق، عدل اور آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

(خطبات مدراس، بحوالہ میثاق مدینہ عدل و امن کا عالمی منشور، ص: ۲۶)

حضور اکرم ﷺ نے تحریکِ اسلام کے فروغ کے لیے دعوتی و تبلیغی، عسکری و جہادی، آئینی و دستوری اور سیاسی و معاہداتی مناہج کو اختیار کیا، ان تمام تر اقدامات میں آپ ﷺ کی جدوجہد کی غایت (جو احقاقِ حق، ابطالِ باطل، اور غلبۂ دینِ حق سے عبارت ہے) موجود رہی۔ میثاقِ مدینہ آپ ﷺ کی سیاسی، معاہداتی اور آئینی و دستوری جدوجہد میں ایک نمایاں اور اساسی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میثاقِ مدینہ نے جہاں ایک طرف آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مساعی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا، وہیں ابد الآباد تک عالمی منظر نامے میں بھی اسلام کو ایک نمایاں اور بے مثال مقام دے دیا۔ میثاقِ مدینہ کو کائناتِ انسانی کا سب سے پہلا تحریری دستور ہونے کا مقام حاصل ہے۔

اس میثاق کی سندی حیثیت

ابو عبید قاسم بن سلام (م: ۲۲۴ھ) نے اپنی کتاب ’’کتاب الاموال‘‘ میں اس عہد نامے کے مختلف حصے مستقل قانونی بحث کے طور پر ذکر کیے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا:

هذا عندي هو المحفوظ. یعنی: میرے نزدیک یہ روایت محفوظ (صحیح اور ثابت) ہے۔

(کتاب الاموال، دار الفکر بیروت، حدیث نمبر: ۳۲۹، ص:۱۶۶)

سیرت ابن ہشام میں اس بات کو محمد بن اسحاق بن یسار (الامام فی المغازی) کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ نیز سیرتِ نبوی کے بنیادی مصادر میں سیرتِ ابن اسحاق کو ایک اہم اور قدیم ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔

محمد ابن اسحاق اگرچہ محدثین کے نزدیک مختلف فی الاستدلال ہیں؛ لیکن جمہور کے نزدیک سیر میں مقبول ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ (ہدی الساری، المکتبۃ السلفیۃ مصر، ص:۴۵۸)

نیز محدثین نے بھی فضائل، مناقب اور سیر میں کسی قدر وسعت و سہولت سے کام لیا ہے۔ جیسا کہ امام احمد بن حنبل کا قول ہے:

إِذَا رَوَيْنَا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ تَشَدَّدْنَا، وَإِذَا رَوَيْنَا فِي الْفَضَائِلِ تَسَاهَلْنَا۔

یعنی: جب ہم حلال و حرام کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو ہم سختی برتتے ہیں (اسناد و راویوں کی سخت جانچ پڑتال کرتے ہیں) اور جب ہم فضائلِ اعمال (اور ترغیب و ترہیب) کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو ہم نرمی برتتے ہیں (ضعیف روایات قبول کرنے میں قدرے آسانی کرتے ہیں)۔ (القول المسدد لابن حجر، ص:۱۱)

میثاقِ مدینہ کی خصوصیات

میثاقِ مدینہ نہ صرف دنیا کا پہلا تحریری دستور ہونے کے لیے امتیازی حیثیت کا حامل ہے؛ بلکہ اپنے نفسِ مضمون اور مافیہ کے اعتبار سے بھی اعلیٰ ترین دستور و آئینی خصوصیات کا مرقع ہے۔ اگر جدید آئینی و دستوری معیارات اور ضوابط کی روشنی میں میثاقِ مدینہ کا تجزیہ کیا جائے تو وہ تمام بنیادی خصوصیات جو ایک مثالی آئین میں ہونی چاہئے۔ میثاقِ مدینہ میں موجود نظر آتی ہیں، جن میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں کیا گیا ہے:

(۱) اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ (Sovereignty of Almighty Allah)

(۲) رسول اللہ کی حاکمیت (State Authority of the Holy Prophet)

(۳) تحریری دستور (Written Constitution)

(۴) مستقل آئینی اساس (Permanent Constitutional Foundation)

(۵) تقسیمِ اختیارات کا تصور (Devolution of Powers)

(۶) متوازن دستور (Balanced Constitution)

(۷) مملکت کی اخلاقی اساس (Moral Foundation of State)

(۸) آئینی طبقات کا تصور (Concept of Constitutional Community)

(۹) سیاسی وحدت کا تصور (دستورِ مملکت) (Concept of Political Unity)

(۱۰) امتِ مسلمہ کا تصور (Concept of Muslim Ummah)

(۱۱) قانون کی حکمرانی اور نظام کی بالادستی (Rule of Law)

(۱۲) مقامی رسوم و قوانین کا احترام (Respect of Local Customs and Law)

(۱۳) معاشی کفالت کا تصور (Concept of Economic Support)

(۱۴) دفاعی معاہدہ (Defence Pact)

(۱۵) بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت (Guarantee of Fundamental Human Rights)

(۱۶) مذہبی آزادی کا تحفظ (Protection of Religious Freedom)

(۱۷) اقلیتوں کا تحفظ (Protection of Minorities)

(۱۸) خواتین کے حقوق کا تحفظ (Protection of Women Rights)

(۱۹) مخالفین کی سازشوں کا تدارک (Eradication of Opponents Conspiracies)

(۲۰)  مدینہ کا دارالامن قرار پانا (Madina was Declared Sanctuary)

(میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ، از: ڈاکٹر طاہر القادری، ص: ۵۰ تا ۵۲)

خلاصۂ کلام

میثاقِ مدینہ ایک ہمہ گیر، عادلانہ اور کثیر المذہبی آئنی منشور ہے، جو جدید عالمی تقاضوں کے جواب میں نہ صرف برتر نظر آتا ہے؛ بلکہ انسانیت کے لیے ایک محفوظ، منصف اور روحانی ضابطۂ حیات بھی فراہم کرتا ہے۔

یہ معاہدہ اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے، مذہبی آزادی کا اولین تحریری آئین ہے، جدید آئینی اصولوں کا پیش خیمہ ہے، امن، رواداری اور شہری برابری کا نمونہ ہے۔

Scroll to Top