ازقلم : محمد کلیم قاسمی ہریدواری
خادم التدریس مدرسہ کنزالعلوم ٹڈولی، گنگوہ
اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں حسن معاشرت کی تعلیم بڑی اہمیت کی حامل ہے،اسلام نے انسانوں کے باہمی تعلقات میں محبت و الفت باقی رکھنے اور زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے ہر ایک کے حقوق بتلائیں ہیں، چھوٹوں کو بڑوں کا احترام کرنے اور بڑوں کو چھوٹوں پر شفقت و محبت کرنے کی تعلیم دی ہے۔
انسانوں کے باہمی تعلقات میں ازدواجی تعلق کو خاص اہمیت حاصل ہے، اس سے عظیم منافع اور مصالح وابستہ ہیں،نیززندگی کا سکون اور قلب کا اطمینان اس تعلق کی خوشگواری اور باہمی الفت و محبت اور اعتماد پر موقوف ہے، اس سلسلے میں حضور اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی بہترین اسوہ اور مشعل راہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے فرمایا۔
سیدہ خدیجہ کا تعارف اور تجارتی پس منظر
حضرت خدیجہ بنت خویلد ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی اور امت کی برگزیدہ خاتون ہیں، اُن کا تعلق قریش کے ایک تاجر گھرانے سے تھا، اُن کی نیکی و پاکیزگی کی وجہ سے لوگ انہیں طاہرہ کہا کرتے تھے، اُن کا پہلا نکاح عتیق بن عائذمخزومی سے ہوا تھا، پہلے شوہر کی وفات کے بعد ابوہالہ بن زرارہ تمیمی کے نکاح میں آئیں، جب عرب کی مشہور لڑائی حرب الفجار چھڑی تو اس میں ان کے والد اور شوہر دونوں شریک ہوئے اور دونوں مارے گئے۔
آپ کا خاندانی پیشہ تجارت تھا والد اور شوہر کی وفات کے بعد حضرت خدیجہ کوتجارت کے سلسہ میں سخت دقت کا سامنا ہوا؛ چنانچہ تجارت کے لیے اپنے عزیزوں میں سے کسی کا انتخاب کر کے اس کے ہاتھ مال تجارت بھجواتی تھیں اور اس طرح وہ نفع کماتی تھیں۔
پیغامِ نکاح اور رشتۂ ازدواج
رسول اکرم ﷺ کی امانت و دیانت اور صداقت شعاری کے چرچے ان دنوں مکہ میں عام تھے، آپ ﷺ صادق اور امین کے لقب سے پکارے جاتے، حضرت خدیجہ نے اسی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کو پیغام بھجوایا کہ اُن کا مال تجارت شام لے جائیں، آپ ﷺ کو دوسروں کی بہ نسبت دوگُنا معاوضہ دیا جائے گا، آپﷺ نے اس کو قبول فرما لیا اور مال تجارت لے کر حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کے ہمراہ شام تشریف لے گئے۔ اس سال کا نفع گزشتہ سالوں کی بہ نسبت دوگنا ہوا۔
حضرت خدیجہ کے بیوہ ہونے کے بعد بہت سے لوگ ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند تھے؛ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، جب رسول اللہ ﷺ شام کے سفر سے واپس لوٹے تو حضرت خدیجہ نے پیغام نکاح بھجوایا، حضور ﷺ نے قبول فرما لیا، اُس وقت آپ ﷺ کی عمر ۲۵؍ برس اور حضرت خدیجہ کی عمر ۴۰؍ سال تھی۔
رفاقت، اولاد اور حضور ﷺ کی قلبی محبت
حضور اکرم ﷺکے ایک بیٹے ابراہیم کے سوا تمام اولاد حضرت خدیجہ کے بطن سے ہوئیں، آپ ﷺ نےان کی شرافت و پاکیزگی اورحسن معاشرت کی بدولت اُن کی حیات میں دوسرا نکاح نہیں فرمایا، رمضان ۱۰ ھ میں حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی، اس سانحہ سے حضور ﷺاس قدر غمگین ہوئے کہ صحت گرنے لگی، بعد میں بھی حضور اکرم ﷺ اپنی اس غمگسار اہلیہ کو یاد کرتے تھے۔
(اسد الغابہ مترجم، ج:۶، ص:۸۰۵ /تاریخ آئینہ امت، ج:۱، ص:۱۶۵)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: ’’مجھے رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں کسی پر اتنا رشک نہیں آتا، جس قدر حضرت خدیجہ پر؛ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:۳۸۱۶)
حضرت خدیجہ کی قربانیاں
حضرت خدیجہ نے سب سے پہلے حضور ﷺ کی تصدیق کی، پہلی وحی کے نزول پرجب آپ ﷺحیران و پریشان ہوئے تو حضرت خدیجہ نے محض تسلی کے کلمات پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ اس فکری کشمکش کے حل کے لیے ایک عملی قدم اٹھایا۔ وہ آپ ﷺ کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، جو عبرانی زبان اور سابقہ آسمانی کتب (تورات و انجیل) کے جید عالم تھے۔ ورقہ بن نوفل نے صورتِ حال سن کر تصدیق کی کہ یہ وہی ’’ناموس‘‘ (فرشتہ حضرت جبرئیل ؈) ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔ اس طرزِ عمل نے ظاہر کیا کہ فیملی لیڈر بحرانی لمحات میں غیر جذباتی، دانشمندانہ اور دور اندیش حکمت عملی اختیار کر کے پورے گھرانے کو تشویش سے نکالتا ہے۔
(صحیح بخاری:۳، صحیح مسلم:۱۶۰)
حضرت خدیجہ مکی دور کی اُن تمام مشکلات میں آپ ﷺ کے ساتھ رہیں جنہیں جھیلنے کے لیے پہاڑ کا جگر درکار تھا؛ اسی لیے رسول اکرم ﷺ اُن کو امت کی سب سے افضل خاتون قرار دیا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
خیر نسائھا خدیجۃ
یعنی: امت کی بہترین عورت خدیجہ ہے۔
(صحیح مسلم، باب فضیلۃ خدیجۃ)
جب رسول اکرم ﷺ کو گھر والوں کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا اور مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا، فاقوں کی نوبت آگئی، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، اتنے کٹھن اور مشکل وقت میں بھی اس مالدار اور وفا شعار بیوی نے (جن کی پوری زندگی ناز و نعم اور مال و فراوانی میں گزری تھی) صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور خوشی خوشی آپ ﷺ کے ساتھ گھاٹی میں رہیں۔
باہر کی دنیا کی مخالفت، طعن و تشنیع، اور معاشرتی بائیکاٹ کے مقابلے میں حضرت خدیجہ نے اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنا دیا۔ کتبِ سیرت میں آتا ہے کہ جب قریش آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے یا آپ کو جھٹلاتے، تو آپ جب بھی گھر لوٹتے، خدیجہ کے چہرے اور باتوں سے ساری تھکن اور غم دور ہو جاتا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ملامت، شکوے یا دنیاوی مطالبات کا دروازہ کھولنے کے بجائے سکون کا ذریعہ بنیں۔
بارگاہِ الٰہی سے سلام
حضرت خدیجہ کے گھریلو اور ایمانی کردار کا مقام بارگاہِ الٰہی میں کتنا بلند تھا، اس کا اندازہ اس صحیح حدیث سے ہوتا ہے: حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جبرئیل ؈ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن، کھانا یا پینے کی چیز ہے۔ جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو انہیں ان کے رب کا اور میرا سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک ایسے محل کی خوشخبری سنا دیجیے جس میں نہ کوئی شور و غل ہو گا اور نہ کوئی مشقت۔
(صحیح مسلم: ۲۴۳۲)