ازقلم : ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی ؒ
سوال: حضرت حکیم بن حزام نے اسلام قبول کیوں نہیں کیاتھا؟
جواب: حضرت حکیم بن حزام نے اسلام قبول کیا؛ البتہ قدرے تاخیر سے قبول کیا، جس کی ایک اہم وجہ اس دور کے تجارتی و معاشرتی تعلقات تھے۔ اس دور میں ندیم یا شریک تجارت (Business Partner) کے ساتھ اس قدر گہری الفت ہوتی تھی کہ ان کا سماجی رویہ ایک دوسرے کے عین مطابق ہوجاتا تھا۔ اسی لیے حضرت حکیم بن حزام اپنی تمام تر شرافت، دوستی اور محبت کے باجود اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا جب تک ان کے تجارتی ندیم داخل اسلام نہ ہو گئے۔
ایسی اور بھی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں جن میں حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضرت ابو سفیان بن حرب ؆ کا قبول اسلام ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ دونوں رشتے دار ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی ندیم بھی تھےاور شروع ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔ جب تک حضرت ابوسفیان بن حرب نے اسلام قبول نہیں کیا تب تک حضرت عباس بن عبدالمطلب بھی داخل اسلام نہ ہوسکے ۔ بالآخر فتح مکہ سے قبل جب رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ پہنچ گئے تھے تو یہ دونوں حضرات آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف با اسلام ہوئے۔ یہ ان تجارتی ندیموں کی ایک قابل غور مثال ہے۔ ہمارے یہاں حضرت عباس کے اسلام لانے اور اسے چھپائے رکھنے کے حوالے سے جو بحثیں پائی جاتی ہیں، وہ درست نہیں ہیں، ان میں بڑا خلا اور واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ فضائل اور تاریخی واقعات میں (سیر و مغازی میں) ایسی روایات ضعف کے باوجود پیش کی جاتی ہیں، اس کے برخلاف پروفیسر یاسین مظہر صدیقی صاحب ؒ کا نظریہ غالباً محض اپنے اجتہاد پر مبنی ہے۔
سوال: کیا لوہے کے کام میں برکت ہے؟ عہدِ نبوی ﷺ میں اس کی کیا مثالیں ملتی ہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا کسی رسول نے بھی لوہے کا کاروبار کیا ہے؟
جواب: کاروبار کوئی بھی کیوں نہ ہو، جائز معاملہ ہے۔ حضرت داؤد ؈ کے بارے میں قرآنِ مجید میں موجود ہے ’’وَاَلَنَّا لَهٗ الْحَدِيْدَ‘‘ (السبا: ۱۰) ’’حدید‘‘ کو ایک طاقتور چیز کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے سماج میں بہت سی خرابیاں دور کی جاسکتی ہیں۔ وہ گویا ایک میزان ہے، اور ’’حدید‘‘ کے کاروبار کا بھی ذکر ہے۔
حضرت داؤد ؈ باقاعدہ لوہے کی زرہیں بناتے اور انہیں بیچتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے لوہے کا کاروبار کیا۔ رسولِ اکرم ﷺ کے صحابی حضرت خباب بن اَرَت تمیمی لوہار تھے۔ وہ لوہے کا کام کرتے اور ہتھیار بھی بناتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی عہدِ نبوی میں لوہے اور مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ موجود تھے۔
محمد بن حبیب بغدادی کی ایک کتاب ہے، جس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکابر صحابہ کرام ؇ قریش اور مکہ و مدینہ کے لوگ مختلف چیزوں کا کاروبار کرتے تھے۔ ان میں اجناس، لوہا، سونا، چاندی اور دیگر بہت سی اشیا شامل تھیں۔ اس کتاب میں اس دور کے مختلف پیشوں اور کاروباروں کا ذکر ملتا ہے۔
جی سی ویمن یونیورسٹی، سیالکوٹ میں منعقدہ کانفرنس بعنوان ’’سیرتِ رسول ﷺ کی عصری معنویت اور عہدِ جدید کی تحدیات‘‘ میں ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی کے پیش کردہ خطبہ ’’نبوی کاروباری زندگی کی اخلاقیات‘‘ کی اس رسالے میں یہ آخری قسط ہے۔ جسے سوال و جواب کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔
نوٹ: پیش کردہ تحریر میں حسب ضرورت ترمیم کی گئی ہے۔
انتخاب و پیشکش: محمد افتخار الحسن خندہ سہارنپوری
ڈائریکٹر: مکتبہ امام ابو الحسن علی الندوی