حضرت ہاجرہ کا اسوہ

از قلم: محمد ندیم ندوی

استاذ جامعہ خیر النساء گنور، ہریانہ
اپریل تا جون 2026ء
حضرت ہاجرہ کا اسوہ

انسانی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، معلوم تاریخ اور مجہول تاریخ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام معلوم تاریخ کے پہلے نبی ہیں، ان سے پہلے تمام انبیاء مجہول تاریخ میں آئے ہیں، اللہ تعالی نے آپ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام اور آپ کے دونوں صاحبزادوں حضرت اسحاق اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ کا زمانہ 1985 –   2160 ق م ہے، آپ کے زمانہ میں شرک اور توہم پرستی کاغلبہ تھا، جس کی وجہ سے انسانیت ان قائدین سے محروم ہو گئی جو توحید کے زیر اثر پروان چڑھیں ہوں، جس کی طرف اشارہ قرآنِ کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں ملتا ہے۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۝ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّيۖ  وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (ابراھیم 36 ،35)

بائبل کی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم کی تین بیویاں تھیں؛ سارہ، ہاجرہ اور قطورہ۔ سابق الذکر بیویوں سے ایک ایک بیٹے اور آخری بیوی سے چھ بیٹے تھے (پیدائش باب 25 آیت 1،2) اسلامی روایات کے مطابق ان تینوں بیویوں میں سب سے مہتم بالشان بیوی حضرت ہاجرہ علیہا  السلام تھیں۔

مشرکانہ تہذیب و تمدن سے نپٹنے کے لیے حضرت ابراہیم نے وحی الہی کے مطابق ایک نیا منصوبہ بنایا اور وہ منصوبہ یہ تھا کہ کسی دور علاقے میں ایک نسل تیار کی جائے، جو مشرکانہ تہذیب سے دور اور خالص فطرت کے ماحول میں پرورش پائے تاکہ ان کی  فطرت اپنی اصل حالت میں باقی رہے، اس ہجرت کا صحیح بخاری حدیث نمبر 3364 میں تفصیل سے ذکر ہے۔

عملی اعتبار سے عورت کلیدی کردار کی حامل ہے، وہ انسانی سماج کو مسلسل بہتر انسان فراہم کرتی ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہر بڑے آغاز کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے، قدیم تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال حضرت ہاجرہ کی ہے، ان کی غیر معمولی قربانی سے عرب کی صحرا میں ایک اعلی درجے کی نسل تیار ہوئی، اس نسل نے پیغمبر اسلام کی قیادت کو قبول کرکے وہ جد و جہد کی جس کے نتیجے میں تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا ہوا، یہ توحید کا انقلاب ایک مؤمنہ کی قربانی سے ہوا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر :3600)

حضرت ہاجرہ کے اسوہ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ انسانی تاریخ میں عورت کا کردار یہ ہے کہ وہ انسانی نسلوں کی تربیت کرے، عورتیں انسانی نسل کے لیے معلم اور مربی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ نے شہری سہولتوں کو چھوڑ کر صحرا کی خشک زندگی اختیار کی، آرام و راحت کو چھوڑ کر سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کیا، پُر سکون زندگی کو چھوڑ کر مسائل سے بھری زندگی کو اپنایا، ذاتی خواہشوں کی تسکین کا راستہ چھوڑ کر انسانیت کے وسیع تر مفاد کو اپنے لیے چن لیا۔

اب دنیا مادہ پرستی کے بھنور میں پھنس گئی ہے اور یہ بھی بالکل شرک اور بت پرستی کی طرح خطرناک ہے، اس مادی ترقی نے انسانیت کو ہلاکت میں ڈال دیا اور انسان کو روحانی ترقی سے محروم کر دیا ہے اور نظام اقدار کو تباہ کر دیا، انسانیت ذاتی خواہشوں پر چل پڑی، اس صورتحال میں تقاضا ہے کہ دوبارہ دنیا میں ہاجرہ جیسی خواتین پیدا ہوں، جو اپنی قربانیوں کے ذریعے تاریخ کو نیا موڑ دیں اور مادہ پرستی کے دور کو دوبارہ توحید پرستی کے دور کی طرف واپس لے آئیں۔

موجودہ زمانے میں تحریک نسواں اور صنفی مساوات (Gender Equality) کے انتہا پسندانہ تصور کے تحت یہ ہوا کہ عورت کے لیے یہ زیادہ بڑی چیز سمجھی جانے لگی کہ وہ گھر سے باہر آکر ہر شعبے میں مرد کے دوش بدوش کام کرے، جس کے لئے ان عورتوں نے یہ نعرہ دیا”Don’t make coffee make policy”

آج پھر ضرورت ہے کہ اس امت کی مائیں اور بہنیں اٹھیں اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے، استقامت اور صبر کے ساتھ نسل انسانی کی تعلیم و تربیت کا سامان فراہم کریں۔

Scroll to Top