از قلم: مولانا محمد مستقیم ندوی
استاذ ادب دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
موجودہ زمانہ کے تمام انسانی مسائل، براہ راست یا بالواسطہ طور پر خدا اور انسان کے درمیان جدائی کا نتیجہ ہیں۔ دور جدید نے انسان کو مادی ساز و سامان تو بہت دیے مگر اس کے خدا کو اس سے چھین لیا۔ اس طرح اس نے جدید انسان کے جسم کے لیے خوراک کا انتظام تو کر دیا مگر روح کو فاقہ کی حالت میں چھوڑ دیا۔
روح کو اگر جسم سے کامل طور پر جدا کر دیا جائے تو جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر روح کو اس کی غذا دینا بند کر دیا جائے تو وہ فاقہ کی حالت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اور اس پر وہ سب کچھ گزرنے لگتا ہے جو جسم کے فاقہ سے جسم پر گزرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ الْقُلُوبُ‘‘ (یاد رکھو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔) (سورۃ الرعد: 28 )
اسلام کے پاس آج کے انسان کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ ’’توحید کا عقیدہ‘‘ ہے۔ ابتدا میں تمام مذاہب اصلاً خدا ہی کے مبلغ تھے۔ مگر بعد کے زمانہ میں وہ خدا کے تصور کو اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رکھ سکے۔ کسی نے خدا کو اپنا قومی خدا بنا لیا۔ کسی نے اس میں شرک کی ملاوٹ کر دی۔ کسی نے خدا کوصرف ایک فلسفیانہ تخیل بنا کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ مذاہب اس قابل نہ رہے کہ خدا کو اس کی واقعی حیثیت میں لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ اب صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس کے یہاں خدا کا تصور اپنی صحیح اور کامل صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے جدید دور میں انسان کو اس کا مطلوب خدا صرف اسلام ہی میں مل سکتا ہے۔
قرآنِ مجید اس باطنی خلا کی نہایت بلیغ انداز میں نشاندہی کرتا ہے: ’’وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهٗ مَعِيشَةً ضَنْكًا‘‘ (اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے زندگی تنگ ہو جائے گی۔) (سورۃ طٰہٰ: 124)
یہ آیت اس ابدی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کی حقیقی آسودگی اس کے مادی ماحول میں نہیں بلکہ اس کے اپنے رب کے ساتھ تعلق میں مضمر ہے۔ جب یہ تعلق کمزور پڑ جاتا ہے تو زندگی کی وسعتیں بھی انسان کے دل کو سکون نہیں دے سکتیں۔ گویا سکونِ قلب کا سرچشمہ خارج میں نہیں بلکہ تعلقِ الٰہی میں پوشیدہ ہے۔
اسی پس منظر میں اسلام کا پیغامِ توحید ایک ایسی ہمہ گیر روشنی کے طور پر سامنے آتا ہے جو نہ صرف انسان کے فکری انتشار کو سمیٹتا ہے بلکہ اس کی زندگی کو ایک واضح سمت بھی عطا کرتا ہے۔ توحید دراصل اس شعور کا نام ہے کہ کائنات کا نظام ایک ہی قادر و حکیم ذات کے زیرِ اختیار ہے، اور انسان کی حیثیت ایک ذمہ دار بندے کی ہے جسے اپنی زندگی اسی حقیقت کے تحت بسر کرنی ہے۔
یہی وہ بنیادی تصور ہے جس کی عملی تعبیرجناب نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ توحید کوئی مجرد نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو انسان کے باطن، اس کے کردار اور اس کے اجتماعی رویوں کو یکسر بدل دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ دراصل توحید کی عملی تفسیر ہے۔
مکہ کی سنگین فضا میں جہاں شرک نے فکری جمود اور اخلاقی انحطاط کو جنم دے رکھا تھا، جناب نبی کریم ﷺ نے جب توحید کا پیغام پیش کیا تو وہ محض ایک عقیدے کی وضاحت نہ تھی بلکہ انسانی فکر و شعور کی ازسرِنو تشکیل تھی۔ قرآن کریم نے اسی دعوت کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے ’’قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ‘‘ (کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔) (سورۃ الاخلاص:1)
یہ مختصر سی آیت اپنے اندر معنی و حکمت کا ایک ایسا بحرِ بیکراں سموئے ہوئے ہے جو انسانی فکر کے تمام منتشر دھاروں کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرتی ہے۔ اس اعلان نے انسان کو ہر باطل سہارے، ہر مصنوعی اقتدار اور ہر فانی مرکز سے کاٹ کر ایک ایسی واحد اور مطلق العنان حقیقت سے وابستہ کر دیا جو نہ زوال پذیر ہے اور نہ محدود۔
چنانچہ یہی ربط انسان کے اندر فکری یکسوئی، قلبی اطمینان اور عملی استقامت کی بنیاد رکھتا ہے؛ کیونکہ جب مرجع ایک ہو جاتا ہے تو فکر بکھرتی نہیں، بلکہ سنورتی ہے اور جب سہارا ایک ہو تو انسان جھکتا نہیں بلکہ سنبھل جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقیدہ کردار میں ڈھل کر ایک زندہ قوت بن جاتا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ توحید محض عقیدہ نہیں بلکہ اعتماد کی وہ کیفیت ہے جو سخت ترین حالات میں بھی انسان کو متزلزل نہیں ہونے دیتی۔ طائف کی وادیوں میں جب اذیتوں کا طوفان اٹھا اور جسمِ اطہر لہولہان ہوا، تب بھی زبان پر ہدایت کی دعا جاری رہی۔ یہ صبر و حلم دراصل اسی توحیدی یقین کا پرتو تھا جو دل کو ثبات عطا کرتا ہے۔
ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں وہ لمحہ بھی ’’توحید‘‘ کا ایک روشن باب ہے جب تعاقب کرنے والے سر پر پہنچ چکے تھے، مگر نبی کریم ﷺ نے اپنے رفیق کو یہ کہہ کر تسلی دی ’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللَّهَ مَعَنَا‘‘ (غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے) (سورۃ التوبہ: 40)
یہ الفاظ دراصل اس توحیدی شعور کا مظہر تھے جو ہر خوف کو ختم کر دیتا ہے اور انسان کو ایک ایسی باطنی قوت عطا کرتا ہے جو کسی ظاہری طاقت سے مغلوب نہیں ہوتی، اس لیے کہ توحید کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ معاشرتی سطح پر بھی ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کرتا ہے۔
عہدِ حاضر میں انسان جس فکری انتشار کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس نے اپنی زندگی سے اس مرکزیت کو کھو دیا ہے جو توحید فراہم کرتی ہے۔ مادیت نے اس کی سوچ کو منتشر کر دیا ہے اور اس کی ترجیحات کو بدل دیا ہے۔ نتیجتاً وہ بیک وقت کئی سمتوں میں بھٹک رہا ہے، مگر کسی ایک واضح منزل تک اس کی رسائی نہیں ہو پا رہی ہے۔ یہی کیفیت اس کے اندرونی اضطراب کو جنم دیتی ہے۔
قرآن اس کیفیت کا علاج یوں بیان کرتا ہے ’’اَللّٰہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّور‘‘ (اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لائے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے)۔ (سورۃ البقرہ: 257) یہ روشنی دراصل وہی توحیدی شعور ہے جو انسان کی فکری تاریکیوں کو ختم کر کے اسے ایک واضح اور متوازن راستہ دکھاتا ہے۔
جناب نبی کریم ﷺ کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان اپنی زندگی کو ایک رب کے ساتھ جوڑ لیتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے جو اسے اضطراب سے نجات دلا دیتی ہے۔ اس کی سوچ میں ترتیب آ جاتی ہے، اس کے اعمال میں توازن پیدا ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی ایک واضح مقصد کے گرد منظم ہو جاتی ہے۔ یوں ’’توحید‘‘ محض ایک عقیدہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ اور متحرک قوت بن جاتی ہے، جو انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرتی ہے، اسے اس کے خالق سے جوڑتی ہے اور اس کی زندگی کو ایک بامعنی سمت عطا کرتی ہے۔