چھوٹی بچی اور اجنبی

از قلم: زاہدہ خاتون

سابق اسسٹنٹ ٹیچر (پرائمری)، جامعہ ملیہ اسلامیہ
اپریل تا جون 2026ء
چھوٹی بچی اور اجنبی

ایک چھوٹی سی بچی نہ جانے کب سے گلی کے نکڑ پر کھڑی رو رہی تھی، گلی سے مستقل لوگ گزر رہے تھے، مگر کسی نے اُس بچی سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے؟ کسی کو اس کی طرف دیکھنے کی فرصت ہی کب تھی؟ لوگ ہنستے ہوئے گزرتے رہے، بچی روتی رہی، کچھ لوگوں نے اگر اس روتی ہوئی بچی کی طرف دیکھا بھی تو یہی سوچا ’’جس کی بچی ہوگی وہ خود دیکھے گا، ہم کیوں پریشان ہوں!!‘‘

مگر ایک صاحب چلتے چلتے رک گئے۔ وہ بچی کے قریب آئے اور بڑے پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ بچی پہلے تو گھبرا گئی، ڈر گئی کہ نہ جانے کون ہے۔ مگر جب آنے والے چہرے پر نظر پڑی تو اُس کا ڈر دور ہو گیا، آنے والے صاحب کا چہرہ بے حد نورانی اور شفقت بھرا تھا۔ اُنہوں نے بڑی نرمی سے بچی سے پوچھا: بیٹی کیا ہوا؟ آپ کیوں رو رہی ہو؟ اُن کے چہرے پر ایک نرم سی محبت بھری مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

بچی ذرا دیر چپ رہی، مگر پھر اُس نے اِس نرم دل شخص کو اپنا دکھ بتا دیا۔ اُس نے کہا کہ اُس کی ماں نے اُسے سودا لانے کے لیے کچھ پیسے دیے تھے۔ وہ کہیں کھو گئے۔ اب وہ ڈرتی ہے کہ اگر گھر جائے گی تو ماں بہت غصہ ہوں گی۔ بس اسی ڈر سے وہ گھر نہیں جا رہی ہے۔

نیک دل انسان نے پوچھا: ’’آپ ہمیں بتائیے کہ آپ کی ماں نے کتنے پیسے دئیے تھے؟ اور کیا منگوایا تھا؟‘‘ جب بچی نے بتایا تو وہ صاحب خود بچی کو لے کر دوکان پر گئے۔ اُسے اُس کا سامان دلوایا۔ بچی سامان لے کر خوشی خوشی گھر چلا گئی۔

بچو! آپ جانتے ہیں یہ نیک دل انسان کون تھے؟ یہ تھے ہمارے اور آپ کے پیارے رسول محمد ﷺ ۔

ہاں بچو! ہمارے رسول محمد ﷺ ایسے ہی تھے۔ وہ کسی کو بھی دُکھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ وہ فوراً اُن کی مدد کو پہنچ جاتے تھے۔ پھر بچوں سے تو وہ ویسے بھی بہت محبت کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی ہر ہر بات میں ہمارے لئے ایک سبق ہوتا ہے۔

المعجم الکیبر للطبرانی، حدیث نمبر: 13607

Scroll to Top