از قلم: پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی
جیسا کہ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ شعیب علیہ السلام کو یہ کیا ہوگیا ہے کہ وہ ہمارے مالوں کے سلسلے میں ہم سے بحث کرتے ہیں، حالانکہ ہم اپنے مالوں میں جو چاہیں کرلیں۔ قرانِ مجید، رسولِ اکرم ﷺ اور اسلام کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے کہ مال آپ کا ہے۔ بلکہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا مال آپ کی حفاظت میں دیا گیا ہے، آپ اس کےامین بنائے گئے ہیں۔ اس مال میں بلاشبہ آپ کا حصہ ہے، ملکیت بھی آپ کی ہے، اور تصرف کا حق بھی حاصل ہے، لیکن اس مال کا ایک بہت بڑا حصہ وہ ہے جو دوسروں کا ہے۔ یعنی ’’حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘‘ (سورۃ المعارج: 24،25) جو شخص محروم ہے (جس کو مال نہیں ملا) اور جو شخص مانگنے والا ہے، اس کا ایک معلوم حصہ مقرر ہے جیسا کہ زکوٰۃ، صدقۂ فطر، اور دوسرے صدقات وغیرہ۔
اس کے علاوہ بھی ایک اور بات اہم ہے کہ آپ زکوٰۃ وصدقات اپنے والدین، اور بیوی بچوں کو نہیں دے سکتے۔ ایسے لوگ جن کی کفالت آپ کے ذمے واجب ہے، اور جو براہِ راست آپ سے خون کا تعلق رکھتے ہیں، ان کو آپ صدقات تو دے سکتے ہیں، لیکن زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اورکوئی شخص یہ سمجھےکہ ہم نے زکوٰۃ ادا کردی ہے، اور صدقات ادا نہیں کیے، والدین کی کفالت نہیں کی، ان کی خدمت نہیں کی، بیوی اور بچوں کی کفالت اور تربیت کے فرائض انجام نہیں دیے، اور دوسرے اعزہ واقارب، پڑوسی اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا، تو یقین مانئے کہ ابھی آپ نے مال کا حق ادا نہیں کیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا طریقہ یہی تھا کہ آپ ﷺ کو جس بھی ذریعہ سے جو بھی مال ملا، اپنی ذات پربھی ایک دانہ بھی خرچ نہیں کرتے تھے، اس لیے کہ زکوٰۃ آپ ﷺ کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں تھی۔
ایک بار کھجور کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ آپ ﷺ کے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ چھوٹے ہی تھے، آئےاور بچپنے میں ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ آپ ﷺ نے فوری طور پر ان کے منہ میں ہاتھ ڈال کر وہ کھجور نکال لی۔ اور فرمایاکہ آلِ محمد ﷺ کے لیے صدقہ جائز نہیں۔ یہ صرف حضرت حسن رضی اللہ عنہ، یا اپنے نواسوں کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ کے خاندان سے جو بھی وابستہ ہوجاتا تھا، چاہے غلام اور پروردہ ہی کیوں نہ ہوں، ان کو بھی آپ ﷺ نے زکوٰۃ کا پیسہ نہیں کھانے دیا کہ وہ آلِ محمد ﷺ ہیں۔ تاکہ کہیں یہ صورتِ حال نہ پیدا ہوجائے کہ زکوٰۃ کی ساری دولت آپ ﷺ کے گھر میں پہنچتی رہے۔
پھر زکوٰۃ کے علاوہ جو رقم آپ ﷺ کے گھر میں آتی تھی، جیسے مالِ فئ، مالِ غنیمت یا ہدایا وغیرہ (ان کی تقسیم بھی متعین تھی)۔ مثلاً مدینہ منورہ میں مخریق نامی یہودی تھے، جو نہایت صاحبِ مال تھے۔ غزوۂ احد سے قبل مسلمان ہوگئے تھے۔ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے حوائط کے نام سے مشہور اپنے سات باغات رسولِ اکرم ﷺ کو ہبہ کر دئیے تھے۔ اور کہاکہ محمد ﷺ جیسا چاہیں ان میں فیصلہ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے ان سارے حوائط کی آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک وہ حصہ جو آپ ﷺ اپنے خاندان والوں، غرباء و اقارب پر خرچ کرتے تھے۔ دوسرا وہ جو عام مسلمانوں، فقراء، اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے تھے۔ اور تیسرا حصہ آپ ﷺ تلواروں، ہتھیاروں اور دفاع کے سامان کی خریداری پر خرچ کرتے تھے۔
یہ اصل بنیادی چیز تھی کہ ہمارے ہاں جو یہ زکوٰۃ و صدقات کو کوئی مرکزی حیثیت نہیں دے پاتے، اور ان کے مختلف ابعاد و جہات کو سمجھ نہیں پاتے، اور ان کے مصارف کو محدود کر دیتے ہیں، وہ خطرناک ہے، حالانکہ آپ ﷺ کے ہاں ایسا نہیں تھا۔
سورۂ انفال میں جب یہ آیت اتری کہ وَاَعِدُّوْا لَھُمْ الخ کہ جتنی تمہارے بس میں ہے، بساط میں ہے، طاقت جمع کرو تاکہ تم ان دشمنوں کو ڈرا سکو، خوف زدہ کر سکو جو تمہارے ارد گرد پائے جاتے ہیں، جن کو تم جانتے ہو، اور جن کو تم نہیں بھی جانتے، لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے تمام وسائل کو جمع کرنا شروع کردیا، اور آپ ﷺ نے وہ سامانِ حرب تیار کیا جو سات برس میں تبدیلی اور انقلاب لے آیا۔
جیسا کہ آپ نے پڑھا ہوگا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے جب جنگِ بدر لڑی تو اتنی سواریاں بھی نہیں تھیں کہ میدانِ جنگ میں لوگ جا سکتے۔ ایک ایک اونٹ پر دودو، تین تین آدمی بیٹھتے تھے۔ لباس بھی پورا نہیں تھا۔ اور فوجی لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود عرب کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے جارہے تھے۔ لیکن جوشِ ایمانی موجود تھا، اور آپ ﷺ کی ہدایت بھی تھی، تو فتح حاصل ہوئی۔ لیکن اس فتح پر نہ تو مسلمان مغرور ہوئے، اور نہ ہی رسولِ اکرم ﷺ نے اس پر یہ سمجھا کہ ہم کافی ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے بعد بھی انتظام شروع کردیا۔
سن ۲؍ ہجری، یعنی 624ء سے لے کر 630ء تک سات برس کے عرصے میں آپ ﷺ نے اپنا جو فوجی نظام قائم کیا، وہ بنیادی طور پر ایک قابلِ داد و تحسین چیز تھی۔ 330 سپاہیوں سے 30 ہزار سپاہ تیار ہوگئی، اور اس زمانے میں جتنے بڑے ہتھیار دستیاب ہوسکتے تھے، وہ سارے آپ ﷺ کے پاس موجود تھے۔ اس زمانے میں کیولری کی بہت اہمیت ہوتی تھی، جیسے آج ماؤنٹین سولجرز کی ہوتی ہے، چاہے ٹینک سمجھ لیجئے، یا کسی اور صورت میں۔ آپ ﷺ نے ’’خیل‘‘ کا یعنی کیولری کابہت اہتمام فرمایا۔ اورتیس ہزار میں سے بیس ہزار کیولری موجود تھی۔
یہ صرف ایک شعبۂ فوج کے بارے میں بتا رہا ہوں کہ مدینہ منورہ پر جو ادوار آئے، اور آپ ﷺ نے جو جنگیں لڑیں، اور ان میں جس طرح سے آپ ﷺ نے انتظام کیا، کہ سب فوجی ساز و سامان کس طرح سے آپ ﷺ نے فراہم کیا ہے، اور اس میں سب سے بڑا حصہ تجارت کا تھا، جس کے ایک حصے کو آپ ﷺ نے اس طرف منعطف کرکے لوگوں کو تعلیم دی کہ ان حالات میں کیا کرنا ہے۔
تو مال کا یہ تصور کہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے اور ہم اس کی کفالت میں ہیں، اور اس کے مختلف مصارف کو بیان کیا توآپ ﷺ نے مال کا تصور ہی یکسر بدل دیا۔ اب ہمارے پاس جو ملکیت ہے وہ Delegated ownership (ملکیتِ مفوضہ) ہے، Real ownership(ملکیتِ حقیقی) نہیں ہے۔ بلکہ Real ownership صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اور وہ جو کہے گا، اس کے مطابق مال خرچ کرنا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اس تجارتی سلسلے کو آگے بڑھایا۔ جیسا کہ آپ ﷺ کی سوانح میں ملتا ہے کہ کس طرح سے آپ ﷺ نے تجارت شروع کی، پہلے دوسرے لوگوں کےساتھ اور پھرحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ، اور مختلف اسواقِ عرب میں گئے جو کہ عرب کے چاروں طرف اوپر (شمال) سے نیچے (جنوب) تک ایک ہار کی طرح سے تمام علاقے مربوط تھے۔ اور بارہ مہینوں میں بارہ بازار لگتے تھے۔ جن کو ہاٹ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ وہ بین الاقوامی بازار ہوتے تھے، جیسا کہ ایران کی سرحد پر، اسی طرح، شام، عراق اور یمن کے قریب، اور پھر مدینہ منورہ، اور مکہ مکرمہ کے قریب بھی بازار لگتے تھے۔ حج کے زمانے میں جہاں سبھی لوگ آتے رہتے تھے، ان سے بھی آپ ﷺ کی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور ان سے بھی آپ ﷺ نے تجارت کی۔ اس تجارت کی تمام چیزوں کو اگر جمع کیا جائے تو ایک نئی ہی دنیا نظر آئے گی کہ کس طریقے سے آپ ﷺ نے لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں، اور اس تجارت کے ذریعے آپ ﷺ نے کتنے ہی لوگوں کی زندگی بدل دی تھی۔ ان لوگوں سے آپ ﷺ نے مالی اور دینی اعتبار سے ملاقاتیں کی تھیں، اور دین کو پھیلانے کا ایک ذریعہ یہ بھی تھا۔
یہ مضمون جی سی ویمن یونیورسٹی، سیالکوٹ میں منعقدہ کانفرنس بعنوان ’’سیرتِ رسول ﷺ کی عصری معنویت اور عہدِ جدید کی تحدیات‘‘ میں ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی کے پیش کردہ خطبہ ’’نبوی کاروباری زندگی کی اخلاقیات‘‘ کی یہ دوسری قسط ہے۔
انتخاب و پیشکش :- محمد افتخار الحسن خندہ سہارنپوری
ڈائریکٹر : مکتبہ امام ابو الحسن علی الندوی