معاشی با ئیکاٹ اور سماجی استحکام

از قلم : مفتی محمد تعظیم قاسمی

صدر مفتی مدرسہ دار العلوم اسعدیہ ایکڑ خورد، ہریدوار
اپریل تا جون 2026ء
معاشی با ئیکاٹ اور سماجی استحکام

انسانی تاریخ میں معاشی دباؤ کو ہمیشہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ طاقتور اقوام کمزور طبقات یا ممالک کو زیرِ نگیں کرنے کے لیے معاشی پابندیاں عائد کرتی رہی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں شعبِ ابی طالب کا بائیکاٹ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اجتماعی استقامت اور سماجی استحکام کا عملی نمونہ بھی ہے۔

جب مشرکین مکہ کا ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا اور اعلانیہ طور پر رسول اللہ ﷺ کے قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ تو حضرت ابو طالب نے بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم کو جمع کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو شعب ابی طالب میں لے آئیں اور بہر صورت ان کو قتل سے محفوظ رکھیں۔ چنانچہ خاندان کے مسلم اور غیر مسلم افراد سب اس بات پر متفق ہو گئے۔ (تاریخ ابن کثیر، ج:3، ص: 121)

جب قریش کو اس بات کا علم ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف کچھ مسلمان نجاشی کے ملک میں چلے گئے جہاں پر ہمارا کچھ زور نہیں چلتا۔ اور روز بروز مکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اتفاق رائے سے یہ معاہدہ کیا کہ ’’کوئی شخص ہم میں سے بنو ہاشم و بنو عبدالمطلب سے خواہ مسلمان ہو یا کافر ہو، نہ اُن سے نکاح کرے، نہ اُن کے ساتھ خرید و فروخت کرے، اور نہ اُن کے ساتھ کوئی سماجی تعلق رکھے۔ اور یہ معاہدہ خانۂ کعبہ میں لٹکا دیا گیا تاکہ اس کی پابندی یقینی بنائی جا سکے۔ (ابن خلدون، حصہ اول، ص: 47)

یہ بائیکاٹ تقریبًا تین سال تک جاری رہا۔ اس دوران مسلمانوں اور بنو ہاشم کو شدید فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ درختوں کے پتے کھاکر پیٹ بھرنا پڑتا تھا۔ اور بھوک کی وجہ سے بچوں کی چیخ و پکار کی آوازیں شعب ابی طالب کے باہر تک سنی جاتی تھیں۔ (ابن اسحاق، ص: 274)

تاہم قریش کے بعض نرم دل افراد جیسے ہشام بن عمرو وغیرہ رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر کھانے پینے کا سامان پہونچاتے تھے۔ (سیرت ابن ہشام، جلد اول، ص: 357)

تین سال بعد ایک اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو طالب کو خبر دی کہ بائیکاٹ کا معاہدہ دیمک چاٹ چکی ہے اور اس میں اللہ کے نام کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ جب معاہدہ کھولا گیا تو اس پر باسمک اللھم کے سوا کچھ باقی نہ تھا۔ جس کے بعد میں بائیکاٹ ختم ہو گیا۔ (تاریخ ابن کثیر، ج:3، ص: 122)

اس بائیکاٹ نے مسلمانوں کی معیشت پر کاری ضرب ماری، کیونکہ: تجارت بند ہو گئی۔ آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے۔ بنیادی ضروریات کا حصول مشکل ہو گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے صبر، توکل، باہمی تعاون اور اجتماعی اتحاد کے ذریعے اس بحران کا مقابلہ کیا، اور اپنے سماجی استحکام کو برقرار رکھا۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس سخت ترین دور میں بھی کسی مسلمان کے مرتد ہونے کا ثبوت نہیں ملتا، بلکہ مسلمانوں کے ایمان اور استقامت میں مزید اضافہ ہوا۔

اس پورے واقعہ میں سب سے نمایاں پہلو مسلمانوں کا سماجی استحکام ہے۔ شدید بھوک، تنگی اور معاشی دباؤ کے باوجود انہوں نے نہ باہمی اختلاف کو جنم دیا، نہ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑا، بلکہ پہلے سے زیادہ متحد ہو گئے۔ خاندان کے افراد نے ایک دوسرے کو سہارا دیا، صاحبِ حیثیت لوگوں نے کمزوروں کی مدد کی، اور پورا معاشرہ ایک مضبوط اکائی کی صورت میں قائم رہا۔ یہی سماجی استحکام تھا جس نے انہیں ٹوٹنے سے بچایا اور یہی کسی بھی معاشرے کی اصل قوت ہوتی ہے۔

جدید دنیا میں بڑی طاقتیں کمزور ممالک کو زیرِ اثر رکھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں۔ مثلاً اُنہیں بین الاقوامی بینکنگ نظام سے الگ کر دینا۔ تیل و گیس اور دیگر وسائل کی تجارت پر پابندی عائد کرنا۔ اور اُن کی کرنسی کو غیر مستحکم بنا دینا۔ یہ سب درحقیقت جدید طرز کا وہی بائیکاٹ ہے، جو کسی نہ کسی شکل میں شعبِ ابی طالب میں نظر آتا ہے۔

مثلاً ایران پر عائد طویل معاشی پابندیوں نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ درآمدات پر زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی قوم میں خود کفالت کا جذبہ ہو تو وہ ٹوٹتی نہیں۔ ایران نے اپنی مقامی صنعت، دفاعی ٹیکنالوجی اور زراعت میں خود انحصاری پیدا کرکے کافی حد تک اس دباؤ کا مقابلہ کیا۔

اسی طرح فلسطین کی موجودہ صورتِ حال بھی ایک زندہ مثال ہے۔ جہاں معاشی ناکہ بندی، خوراک اور ادویات کی قلت، اور نقل و حرکت پر پابندیاں ایک مسلسل آزمائش بن چکی ہے۔ فلسطینی معاشرہ اپنے خاندانی نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور اجتماعی یکجہتی کے ساتھ سماجی استحکام کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

شعبِ ابی طالب اور آج کے معاشی بائیکاٹ میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ جو قوم دوسروں پر زیادہ انحصار کرتی ہے، وہ زیادہ کمزور رہتی ہے۔ آج مسلم دنیا کا بڑا مسئلہ یہی ہے کہ: ٹیکنالوجی، خوراک اور مالیاتی نظام میں دوسروں پر انحصار کرتی ہیں۔

اگر شعبِ ابی طالب کے تجربے کو آج کے حالات پر منطبق کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات، خصوصاً خوراک، توانائی اور صنعت کے میدان میں خود انحصاری پیدا کرے اور مقامی پیداوار کو فروغ دے۔ اسی کے ساتھ باہمی تعاون اور اتحاد کو مضبوط بنایا جائے، اور ایسے مالیاتی و معاشی نظام قائم کیے جائیں جو بیرونی دباؤ سے نسبتاً محفوظ ہوں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر حال میں سماجی استحکام کو مقدم رکھا جائے، کیونکہ اگر معاشرہ اندر سے ٹوٹ جائے تو کوئی بھی معاشی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ شعبِ ابی طالب کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی صبر، ایثار اور باہمی تعاون کے ذریعے نہ صرف بقا ممکن ہے بلکہ ایک مضبوط بنیاد بھی قائم کی جا سکتی ہے۔

Scroll to Top