محمد ﷺ سے متعلق مائیکل ہارٹ کی رائے کا تنقیدی جائزہ

از قلم: ڈاکٹر مجتبٰی فاروق

سنٹر فار اسٹیڈی اینڈ ریسرچ، نئی دہلی
اپریل تا جون 2026ء
محمد ﷺ سے متعلق مائیکل ہارٹ کی رائے کا تنقیدی جائزہ

مستشرقین اور تعصب پسند مغربی دانش وران اور مصنفین نے قرآن مجید کے بارے میں منفی رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے قرآن مجید کو الٰہی کلام ہونے کے بجائے ایک انسانی کاوش قرار دیا اور نبی اکرم ﷺ کو قرآن مجید کا خالق قرار دیا۔ اس تعلق سے انھوں نے اسلام کے بنیادی مصادر کا سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا بلکہ سطحیت اور تعصب پسندی سے بھرپور کام لیا۔ مستشرقین اور مغرب کے تعصب پسند مصنفین نت نئے طریقوں اور خرافات سے محمد ﷺ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے افکار و نظریات اور اپنی تحقیقات کے آغاز میں تعریفی الفاظ پیش کرنے کا طریقہ استعمال کرتے ہیں جسے (Appreciating Mode) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ پہلے تعریف بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید ایک لاثانی اور غیر معمولی کتاب ہے۔ اوراس کتاب کی زبان بھی نہایت فصیح وبلیغ ہے؛ لیکن ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن ایک آسمانی کتاب نہیں ہے اور نہ اس کو کلامِ الہی قرار دیا جاسکتا ہے؛ بلکہ ان کا موقف یہ ہے کہ یہ پیغمبر اسلام  کا تخلیق کردہ کلام ہے، جنھوں نے اس کتاب کو مرتب کرنے میں نہایت چالاکی سے کام لیا۔ اس سلسلے میں تھامس کارلائیل (Thomas Carlyle)، منٹگمری واٹ (W.MontgomeryWatt) اور مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کا نام لیا جاسکتا ہے۔

مائیکل ہارٹ نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ”A Ranking of the Most Influential : The 100 Persons in History” ہے۔  اس میں اس نے دنیا کے سو بڑے مذہبی شخصیات مفکرین فلسفیوں، اور سائنس دانوں کی خدمات اور ان کے کارناموں کو سراہا؛ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عیسائی عالم ہونے کے باوجود اس نے حضرت محمد ﷺ کو کتاب میں سرفہرست رکھتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں حضرت محمدﷺ کو تاریخِ انسانی کی مؤثر ترین شخصیت ہے۔ اس کے بعد اس کی دلیل دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے تاریخِ انسانیت پر بے شمار دینی ودنیوی اثرات ڈالے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے مؤثر ترین افراد کی اس فہرست میں محمد ﷺ کو سر فہرست رکھنے کے میرے انتخاب سے بعض قارئین کو بڑا اچنبھا ہوگا اور بعض حضرات اس پر سوال بھی اٹھا سکتے ہیں؛ لیکن وہ دنیا کے واحد فرد ہیں جو دینی اور دنیوی دونوں سطحوں پر کامل حد تک کامیاب تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

”But he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels”

یعنی حضرت محمد ﷺ نے تاریخِ انسانیت پر بے شمار دینی و دنیوی اثرات ڈالے ہیں۔ اس کے بعد مائیکل ہارٹ ایک نہایت زہر یلی بات لکھتا ہے جو کم علم انسان کو شک و شبہ میں ڈال سکتی ہے۔ وہ اپنے مذموم خیالات کا اس طرح اظہار کرتا ہے:

”Moreover, he is the author of the Moslem Holy Scriptures, the Koran a collection ofcertain of  Muhammad (SW)’s insights that he believed had been directly revealed to him by Allah”

یعنی مزید براں محمد مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مصنف ہے، جو محمد کے خیالات کا مجموعہ ہے اور جس کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ وہ ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی۔ اس طرح اور بھی باتیں لکھتے ہیں مثلاً حضرت محمد ﷺ کو محض سیاسی لیڈر کے طور پیش کرنا اور اسلام کے بانی قرار دینا وغیرہ وغیرہ۔

مائیکل ہارٹ کی بات ہم اکثر و بیشتر فخر سے کہتے آرہے ہیں کہ دیکھیے مائیکل ہارٹ جیسے مفکر نے بھی اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں یہ کہا ہے اور ہمارے بعض علماء بھی اُن جیسی باتوں کو فخر سے سیرتی مجالس اور سیرتی مضامین میں بیان کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کی باتیں گھومتی رہتی ہیں، اور لوگوں کو مائیکل ہارٹ کی کتاب 100 The پڑھنے کی تلقین کی جارہی ہے۔

مغربی مفکرین اور مستشرقین کا یہ عام وطیرہ ہے کہ پہلے کچھ تعریفی کلمات بیان کرتے ہیں اور اس کے بعد فوراً زہریلی تلوار سے حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مستشرقین اور مغربی مفکرین کی ان جیسی باتوں اور مفروضات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جب وہ تحقیقات کے نام پر مفروضات پیش کرتے ہیں تو اس وقت اُن کی دانش مندی کہاں چلی جاتی ہے؟ اور عالم طور پر مستشرقین کی جانب سے اس طرح کی باتیں آتی رہتی ہیں، جن کے پیچھے ان کے اپنے مذموم مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔

اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کو مجروح یعنی Character Assassination کرنا مشرکین مکہ کا بھی بنیادی ہدف رہا ہے۔ اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ پاگل، ساحر، شاعر اور دیوانہ جیسے مذموم الفاظ سے پکارتے تھے اور یہ اُن کا وطیرہ بن چکا تھا۔ قرآن کریم میں ان کا یہ بیان موجود ہے کہ:  اے  وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے جس پر کوئی نصیحت اتری ہے تو بے شک دیوانہ ہے۔ (الحجر:6)

یہ ایک قسم کی اعصابی جنگ (War of Nerves) تھی، جس میں مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی قوت ارادی کو شل کرنا چاہتے تھے۔ آج بھی مغربی مفکرین اس بات سے زبردست خوف زدہ ہیں کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو اقوام کو بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ منظم اور منصوبہ بندی کے ساتھ بے شمار پروجیکٹس تیار کر رہے ہیں اور قرآن کو تحریف کرنے کے نت نئے طریقے اور مناہج ایجاد کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے اور وہ اس میں بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے ہرممکن طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

حاصل کلام

مغربی دانشوروں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دو بنیادی طریقے اختیار کریں: پہلا یہ کہ Understanding the text literally یعنی متن کو اس کے ظاہری الفاظ کے مطابق سمجھا جائے، اور دوسرا یہ کہ Understanding the text beyond the language یعنی کسی بات کو بین السطور (between the lines) پڑھ کر اس کے پوشیدہ مفہوم تک رسائی حاصل کی جائے کہ مصنف درحقیقت کیا کہنا چاہتا ہے۔ مطالعہ کے دوران ان دونوں اصولوں کو پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اسی سے کسی بھی فکر یا تحریر کا صحیح اور مکمل ادراک ممکن ہوتا ہے۔

Scroll to Top