از قلم : سید جمشیداحمد ندوی
استاذ جامعہ امام شاہ ولی اللہ الاسلامیہ، پھلت
انسانی تاریخ کا ہر روشن باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جب بھی حق نے باطل کے اندھیروں کو چیرنے کا ارادہ کیا، تواسکے لیے صرف صداقت ہی کافی نہ تھی بلکہ ایک حکیمانہ اسلوب، متوازن حکمتِ عملی اورصبرآزما استقامت بھی ناگزیر تھی۔ دعوتِ دین دراصل محض الفاظ کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و عملی انقلاب کا عنوان ہے، جس میں دلوں کی دنیا بدلی جاتی ہے، ذہنوں کو روشنی دی جاتی ہے اور زندگیوں کو ایک نئے رخ پر ڈالا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے دعوت کے لیے جس اصولی ہدایت کو بنیاد بنایا وہ ’’حکمت‘‘ ہے، اور یہی وہ لفظ ہے جو ہر دور میں دعوت کی کامیابی کا راز رہا ہے۔
دعوت کے مفہوم کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان کو اس کے خالق کی طرف بلانے، اسے اس کی حقیقت سے روشناس کرانے اور اس کی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد سے ہم آہنگ کرنے کا عمل ہے۔ یہ عمل نہ صرف علم کا تقاضا کرتا ہے بلکہ ایک ایسے دل کی ضرورت بھی رکھتا ہے جو انسانیت کے لیے تڑپتا ہو، جو خیر خواہی سے لبریز ہو اور جو دوسروں کی ہدایت کو اپنی ذاتی کامیابی سے بڑھ کر سمجھے۔ اس کے بغیر دعوت محض ایک رسمی سرگرمی بن کر رہ جاتی ہے جس میں نہ تاثیر ہوتی ہے اور نہ دوام۔
مکی دور کی دعوت اس باب میں ایک کامل اور جامع نمونہ پیش کرتی ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے دعوت کا آغاز کیا تو ماحول سخت مخالف تھا، وسائل محدود تھے اور مخاطبین کی اکثریت تعصب اورجہالت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے میں آپ ﷺ نے دعوت کا آغاز خفیہ طور پر کیا۔ یہ خفیہ مرحلہ محض احتیاط نہیں بلکہ ایک گہری حکمت کا مظہر تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پہلے ایسے افراد تیار کیے جائیں جو ایمان کی پختگی، فکری استحکام اور عملی استقامت کا نمونہ ہوں۔ وہ افراد بعد میں دعوت کے ستون بنے اور انہوں نے ہر طرح کی آزمائش میں حق کا پرچم بلند رکھا۔
جب یہ ابتدائی جماعت تیار ہو گئی تو دعوت کا دائرہ وسیع کیا گیا اور علانیہ مرحلہ کا آغاز ہوا۔ یہاں بھی حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا۔ سخت مخالفت، طعن و تشنیع اور ظلم و ستم کے باوجود نبی کریم ﷺ کا اسلوب نرم، دلنشین اور حکیمانہ رہا۔ آپ ﷺ نے نہ کبھی اشتعال کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی انتقامی جذبات کو اپنے اوپر غالب آنے دیا۔ بلکہ آپ ﷺ کی دعوت کا ہر لفظ خیرخواہی، ہر انداز محبت اور ہر عمل انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام تھا۔
یہی وہ اسلوب ہے جسے قرآن نے ’’حکمت‘‘ اور ’’موعظہ حسنہ‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا۔ اُدْعُ إِلیٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ‘‘ (سورۃ النحل: 125) حکمت کا مطلب صرف نرمی نہیں بلکہ یہ ایک جامع تصورہے جس میں حالات کی صحیح پہچان، مخاطب کی نفسیات کا ادراک، وقت اور موقع کی مناسبت، اور بات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ ایک داعی اگر ان پہلوؤں کو نظر انداز کر دے تو اس کی دعوت اثر کھو بیٹھتی ہے، چاہے اس کا پیغام کتنا ہی سچا کیوں نہ ہو۔
آج کادور بلاشبہ مکی دورسےمختلف ہے، لیکن اس کے چیلنجز کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔ بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ زیادہ پیچیدہ اورنازک ہیں۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اورگلوبل کمیونیکیشن نے جہاں دنیا کو قریب کر دیا ہے، وہیں فکری انتشار، بے ترتیب معلومات اور ذہنی الجھنوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف یہ ذرائع دعوت کے لیے بے مثال مواقع فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف یہ ایسے چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں جن کا مقابلہ صرف حکمت و اوربیدار مغزی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
آج ہر شخص ایک ’’میڈیا ہاؤس‘‘ بن چکا ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، اسکے پاس پلیٹ فارم ہے اوراس کی بات سیکنڈوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت حال نے دعوت کے میدان کو وسعت بھی دی ہے اور اس میں خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ ایک غیر محتاط جملہ، ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ یا ایک جذباتی ردعمل نہ صرف دعوت کے مقصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ دین کی غلط تصویر بھی پیش کر سکتا ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ کے چیلنجز میں سب سے نمایاں مسئلہ سطحیت کا ہے۔ لوگ گہرائی میں جانے کے بجائے سرسری معلومات پر اکتفا کرتے ہیں، تحقیق کے بجائے سنسنی خیز بات کو ترجیح دیتے ہیں اور دلیل کے بجائے جذباتی نعروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک داعی کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ وہ خود اس سطحیت کا شکار نہ ہو بلکہ اپنے اندر علمی سنجیدگی، فکری توازن اور تحقیقی مزاج کو برقرار رکھے۔
ایک اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ دین کی نمائندگی اکثر ایسے افراد کے ہاتھ میں آ جاتی ہے جو نہ تو علمی طور پر پختہ ہوتے ہیں اور نہ ہی دعوت کے اصولوں سے واقف۔ وہ جذباتی انداز میں بات کرتے ہیں، سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف دعوت کاحسن مجروح ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں دین کے بارے میں منفی تاثر بھی پیدا ہوتا ہے۔
یہاں مکی حکمتِ عملی ہمیں ایک بار پھر رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سخت ترین حالات میں بھی اپنے اسلوب کو شائستہ رکھا، مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کیا اور کبھی بھی اپنی دعوت کو تلخی یا شدت پسندی کا رنگ نہیں دیا۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو آج کے داعی کے لیے مشعلِ راہ ہونا چاہیے۔
دعوت کے میدان میں زبان کا انتخاب بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ایک مخصوص اندازِ فکر اور زبان رکھتی ہے۔ اگر ہم ان تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی زبان میں، ان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے اور ان کے ذہنی افق کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دین کے اصولوں میں تبدیلی کی جائے، بلکہ قدیم دینی تعلیمات کو جدید ذہن کے مطابق، ایسے حکیمانہ، شائستہ اور دل نشین انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ آج کے انسان کے لیے نہ صرف قابلِ فہم بلکہ قابلِ قبول بھی بن جائیں، یعنی پیغام اپنی اصل پر قائم رہے، مگر اس کی پیشکش میں نرمی، حکمت اور حسنِ اخلاق وہی ہو جو مکی دور کی دعوت کا امتیازی وصف تھا۔
خواتین اور بچوں کی طرف دعوتی توجہ بھی عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔ خواتین معاشرہ کی بنیاد ہیں، اور بچوں کی تربیت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر خواتین دینی شعور سے آراستہ ہوں اور بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں تو ایک صالح معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ اسی طرح بچوں کے لیے سادہ، دلچسپ اور مؤثر انداز میں دین کو پیش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہو۔
دعوت میں کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز الفاظ نہیں بلکہ کردار ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ آپ ﷺ کی سچائی، امانت داری اور اخلاق نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعوت میں اثر ہو تو ہمیں اپنے کردار کو سنوارنا ہوگا۔ مزید برآں، دعوت کے میدان میں وسعتِ نظر اور رواداری بھی نہایت ضروری ہے۔ اختلافات کو برداشت کرنا، دوسروں کی بات کو سننا اور اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھنا ایک داعی کی بنیادی صفات میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر ہم ہر اختلاف کو نزاع بنا دیں گے تو دعوت کا ماحول خراب ہو جائے گا اور لوگ دین سے دور ہو جائیں گے۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دعوت ایک مسلسل اور صبر آزما عمل ہے۔ اس میں جلدی نتائج کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ مکی دور میں بھی تیرہ سال تک مسلسل محنت کے بعد ایک مضبوط بنیاد قائم ہوئی۔ آج بھی اگر ہم صبر، حکمت اور استقامت کے ساتھ کام کریں گے تو ان شاء اللہ نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔
آخرمیں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جدید ذرائع ابلاغ کے چیلنجز اگرچہ پیچیدہ ہیں، لیکن ان کے اندر بے شمارمواقع بھی پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم مکی حکمت عملی کو اپنا رہنما بنائیں، اپنے اسلوب کو شائستہ اور مؤثر بنائیں، اور جدید ذرائع کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تو ہم نہ صرف ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ دعوت کے میدان میں ایک نئی تاریخ بھی رقم کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے قابل بناتا ہے بلکہ ہمیں اس عظیم مشن کا حصہ بھی بناتا ہے جس کا آغاز انبیائے کرام علیہم السلام نے کیا تھا، اور جس کی تکمیل کی سعادت امتِ محمدیہ کے حصے میں آئی ہے۔