سیرتِ نبوی ﷺ میں فروغِ علم کے جدید ذرائع

از قلم : محمد اسجد قاسمی

اپریل تا جون 2026ء
سیرتِ نبوی ﷺ میں فروغِ علم کے جدید ذرائع

جدید دور میں ’’ماڈرنیٹی‘‘ (Modernity) ایک ایسا تصور بن گیا ہے جسے اکثر مغربی تہذیب، سائنسی ترقی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام یا سیرتِ نبوی ﷺ جدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور عملی زندگی انسانی معاشرے کے لئے ایسا ہمہ گیر نظام پیش کرتی ہے جو ہر زمانے میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں وہ آفاقی اصول موجود ہیں جو عدل و انصاف، انسانی حقوق، فروغِ علم، باہمی مشاورت اور سماجی اصلاح جیسے جدید تصورات کی بنیاد ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ اصول بیان کر دئے تھے جنہیں آج کی دنیا ’’جدید اقدار‘‘ (Modern Values) کہتی ہے۔

انہی اصولوں میں سے ایک اہم ترین اصول علم کی قدر و منزلت اور اس کا فروغ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ترویجِ علم کے لئے ہر وہ طریقہ اختیار فرمایا جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے نہ ٹکرائے، اور جس میں مسلمانوں کا دینی یا دنیوی فائدہ پوشیدہ ہو۔ ذیل میں تعلیم و تعلم سے متعلق اُن پہلوؤں کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے امتِ مسلمہ کی فلاح اور علمی ارتقاء کے لئے اختیار فرمایا۔

تاریخی پس منظر اور انقلابِ علم

بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل عرب معاشرہ علمی اعتبار سے بہت پسماندہ تھا۔ لکھنے پڑھنے کا رواج نہایت محدود تھا۔ مؤرخین کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت مکہ میں صرف سترہ (17) افراد ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اسی بنا پر اس عہد کو ’’عہدِ جاہلیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ علم کے فقدان کی وجہ سے معاشرہ؛ قبائلی تعصب، جہالت اور اخلاقی پستیوں کا شکار تھا۔

ایسے نامساعد حالات میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علم کی ترغیب دراصل ایک عظیم فکری اور سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ’’اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ‘‘ (العلق: 1) نے جاہلی معاشرے میں علم و تحقیق کی وہ تحریک پیدا کی جس نے انسانی سوچ کے دھارے بدل دیے۔

اولین تعلیمی مراکز: دارِ ارقم سے مسجدِ نبوی تک

اسلام کے ابتدائی دور میں تعلیم و تربیت کا پہلا مرکز دارِ ارقم تھا۔ یہ حضرت ارقم بن ابی الارقمؓ کا کاشانہ تھا جہاں رسول اللہ ﷺ صحابہ کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ اس عہد کا ایک منظم تعلیمی ادارہ تھا جو عرب معاشرے میں نئے تعلیمی طریقے کی حیثیت رکھتا تھا۔

ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ ﷺ نے مسجدِ نبوی کو باقاعدہ ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی شکل دے دی۔ مسجد کا ایک حصہ ’’صُفّہ‘‘ کہلاتا تھا، جو درحقیقت ایک اقامتی (Residential) تعلیمی نظام تھا۔ اصحابِ صفہ نے اپنی زندگیاں علم کے حصول اور تبلیغِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے تعلیم کے لیے ایک باقاعدہ رہائشی تعلیمی نظام قائم کیا جو اپنے زمانے کے لحاظ سے ایک منفرد مثال تھی۔

غزوۂ بدر کے قیدی اور تعلیمی فدیہ

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمی پالیسی کا ایک عدیم المثال پہلو غزوۂ بدر کے بعد سامنے آیا۔ جب قریش کے جنگی قیدی مدینہ لائے گئے، تو آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ: ’’جو قیدی مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے گا، اسے آزاد کر دیا جائے گا۔‘‘ (مسند احمد: 2216)۔ دشمن کے قیدیوں سے تعلیم حاصل کرنے کا یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام علم کو کسی جغرافیائی یا نظریاتی قید میں بند نہیں کرتا بلکہ اسے انسانیت کی مشترکہ میراث قرار دیتا ہے۔

تعلیمِ نسواں اور ہمہ جہت علوم

اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے تعلیم کو کسی خاص طبقے یا صنف تک محدود نہیں رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی علم حاصل کرنے کی بھرپور ترغیب دی۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ عہدِ نبوی میں حضرت عائشہ صدیقہؓ جیسی عظیم فقیہہ اور عالمہ نے علمی میدان میں وہ مقام حاصل کیا جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ملتی ہے۔

اسلامی نظام میں علم کی تقسیم ’’مذہبی‘‘ اور ’’دنیوی‘‘ کے خانوں میں نہیں کی گئی، بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لیے نافع ہو، اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ قرآن مجید نے کائنات کے مشاہدے اور غور و فکر کی دعوت دی ہے: ’’أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ‘‘ (الغاشیہ: 17)۔ یہ آیات انسان کو سائنسی اور فکری تحقیق کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

عہدِ رسالت میں علم کا مفہوم محض نظری نہیں بلکہ عملی بھی تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو عصری ضرورتوں کے مطابق نئی مہارتیں سیکھنے کا حکم دیا۔ مثلاً حضرت زید بن ثابتؓ نے آپ ﷺ کے ایما پر عبرانی اور سریانی زبانیں سیکھیں۔

اسی طرح غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ کی تجویز پر خندق کھودنے کی تکنیک اپنائی گئی، جو اس وقت عربوں کے لیے نئی تھی۔ مزید یہ کہ صحابہ کرام نے کتابت، حساب داری (Accounting) اور نظم و نسق (Administration) میں مہارت حاصل کی جس سے ایک منظم ریاست کی بنیاد پڑی۔

ان تمام شواہد سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ میں علم کا تصور نہایت وسیع، عملی اور عصری تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ تھا۔ اسی نہج پر تربیت پا کر مسلمانوں نے بعد ازاں طب (Medicine)، ریاضی (Mathematics)، فلکیات (Astronomy) اور فلسفہ (Philosophy) میں دنیا کی امامت کی۔

سیرتِ طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام جدیدیت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ وہ علم کے ہر ایسے جدید اور نافع ذرائع کا استقبال کرتا ہے جو انسانیت کی فلاح اور معاشرے کی ترقی کا ضامن ہو۔

Scroll to Top